غزہ میں بانجھ پن کے علاج کے لیے نو کلینکس دستیاب تھیں، جہاں فرٹیلائزڈ انڈوں کو اس وقت تک فریز کر کے محفوظ رکھا جاتا تھا جب تک انہیں رحم مادر میں منتقل کرنے کا وقت نہ آ جائے۔
اب جب کہ اسرائیل نے غزہ کے سب سے بڑے بانجھ پن اور آئی وی ایف کلینک "البسمہ سینٹر” کو نشانہ بنایا، ایمبریولوجی یونٹ میں موجود پانچ مائع نائٹروجن ٹینکوں کے ڈھکن تباہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں 4,000 سے زائد ایمبریوز اور 1,000 کے قریب نطفے اور غیر فرٹیلائزڈ انڈے ضائع ہو گئے، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
کیمرج سے تربیت یافتہ ماہر امراض نسواں و زچہ و بچہ، بہاءالدین غلینی، جنہوں نے 1997 میں اس کلینک کی بنیاد رکھی تھی، نے کہا: "ہم گہرائی سے جانتے ہیں کہ یہ 5,000 زندگیاں یا ممکنہ زندگیاں ان والدین کے لیے کیا معنی رکھتی تھیں، چاہے مستقبل کے لیے ہوں یا ماضی کے کسی خواب سے جڑی ہوں۔”
انہوں نے نشاندہی کی کہ ان میں سے کم از کم نصف جوڑے اب مزید نطفے یا انڈے پیدا نہیں کر سکتے، اور ان کے لیے اولاد کا کوئی دوسرا موقع نہیں ہو گا۔
"میرا دل لاکھوں ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے۔”
غلینی کے مطابق، جن والدین نے آئی وی ایف کا انتخاب کیا، وہ اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے ٹی وی اور زیورات تک بیچ رہے تھے۔
فلسطینی محکمہ شماریات کے مطابق، غزہ کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے اور یہاں شرح پیدائش 3.38 فی عورت ہے۔
ہر دس منٹ بعد غزہ میں ایک خاتون انتہائی سنگین حالات میں بچے کو جنم دے رہی ہے، جب کہ ہزاروں دیگر حاملہ خواتین پناہ گزین مراکز اور خیموں میں بیماریوں، اسقاط حمل اور یہاں تک کہ براہ راست قتل کے خطرے سے دوچار ہیں۔
"صرف وہی جانتے ہیں جو اس اذیت سے گزرے ہوں”
ایک مثال سباء جعفراوی کی ہے، جنہوں نے تین سال تک علاج اور تکلیف دہ انجیکشنز برداشت کیے۔ دو بار حمل ٹھہرنے کی ناکام کوششوں کے بعد وہ آئی وی ایف کی جانب مائل ہوئیں۔
ستمبر میں پہلی کامیاب آئی وی ایف کے بعد وہ حاملہ ہوئیں، مگر کچھ ہی دیر بعد جنگ چھڑ گئی۔
"مجھے خوشخبری کا جشن منانے کا موقع بھی نہ ملا،” انہوں نے کہا۔ "میں یہ حمل کیسے مکمل کرتی؟ میرے ساتھ، اور میرے رحم میں موجود ان بچوں کے ساتھ کیا ہوتا؟”
انہیں کبھی الٹراساؤنڈ کروانے کا موقع نہ ملا اور وہ کلینک بھی بند ہو گیا جہاں ان کے پانچ ایمبریوز محفوظ کیے گئے تھے۔
چونکہ مائع نائٹروجن کی سطح کو ایمبریوز کی بقا کے لیے انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے، اس لیے البسمہ کے چیف ایمبریولوجسٹ، محمد عجور کو شدید تشویش لاحق تھی۔ وہ درجہ حرارت کو منفی 180 ڈگری سیلسیس سے کم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن جب ایک بار مائع نائٹروجن کی ترسیل ممکن ہوئی تو اسرائیل نے غزہ کی بجلی اور ایندھن منقطع کر دیا، اور فوجی ٹینک کلینک کے آس پاس گشت کرنے لگے، جس سے اندر جانا خطرناک ہو گیا۔
جعفراوی خود بھی مصیبت میں تھیں۔ چونکہ لفٹ بند ہو گئی تھی، وہ چھ منزلہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھ کر جاتی تھیں۔ کھانے پینے کی شدید قلت تھی اور پڑوس کی عمارت پر گرنے والے بم نے ان کے گھر کی کھڑکیاں توڑ دیں۔
"مجھے شدید خوف لاحق ہو گیا اور ایسے آثار ظاہر ہونے لگے کہ میرا حمل ضائع ہو جائے گا،” انہوں نے بتایا۔ بعد ازاں، 12 نومبر کو جب وہ اور ان کے شوہر مصر پہنچے تو پہلی الٹراساؤنڈ میں معلوم ہوا کہ وہ جڑواں بچوں کی ماں بننے والی ہیں۔ لیکن چند ہی دن بعد خون آنا شروع ہوا اور پیٹ میں ایک اچانک تبدیلی واقع ہوئی—حمل ضائع ہو چکا تھا۔
"ہسپتال میں میری چیخ و پکار کی آوازیں آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں… آئی وی ایف کا سفر کتنا کٹھن ہوتا ہے، یہ صرف وہی جان سکتا ہے جو خود اس سے گزرا ہو،” انہوں نے کہا۔
وہ اپنے منجمد ایمبریوز کے لیے واپس جانا چاہتی تھیں، تاکہ ایک اور موقع مل سکے، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
غلینی نے بتایا کہ اسرائیلی شیلنگ نے کلینک کی مکمل گراؤنڈ فلور تباہ کر دی، جہاں ایمبریولوجی لیب قائم تھی۔
"اس ایک گولے نے پانچ ہزار زندگیاں ختم کر دیں،” انہوں نے کہا۔
رائٹرز کے ایک صحافی، جنہوں نے رواں ماہ کلینک کا دورہ کیا، بتایا کہ ایمبریولوجی لیب کے آلات تباہ ہو چکے تھے اور مائع نائٹروجن کے ٹینک ملبے میں بکھرے ہوئے تھے۔ ان کے ڈھکن کھلے تھے، اور ایک ٹینک کے نیچے مختلف رنگوں والے اسٹراز میں وہ خوردبینی ایمبریوز موجود تھے—جو اب ناقابل استعمال ہو چکے تھے۔

