خان یونس — فلسطین کے جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک اور صحافی، حسن سمور، اپنے پورے خاندان سمیت شہید ہو گئے۔
یہ ہولناک حملہ جمعرات کو علی الصبح ان کے گھر پر کیا گیا، جس میں سمور اور ان کے اہل خانہ جان کی بازی ہار گئے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 216 ہو گئی ہے۔
یہ فضائی حملہ خان یونس پر اسرائیلی افواج کی رات بھر جاری رہنے والی کم از کم دس بمباریوں میں سے ایک تھا۔ ناصر اسپتال میں درجنوں لاشیں پہنچائی گئیں، جن میں سے کئی ناقابلِ شناخت حالت میں تھیں۔ اسپتال کے مطابق صرف اسی رات شہر میں 54 افراد شہید ہوئے۔
یہ مسلسل دوسرا دن تھا جب غزہ پر شدید بمباری کی گئی۔ ایک روز قبل، جنوبی اور شمالی غزہ پر ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم 80 افراد شہید ہوئے تھے، جن میں دو درجن کے قریب بچے بھی شامل تھے۔
حسن سمور کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دو دن قبل ایک اور معروف فلسطینی فوٹو جرنلسٹ، حسن اسلیح، بھی اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو چکے تھے۔ یہ حملہ ناصر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جہاں اسلیح زخمی حالت میں زیرِ علاج تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق، یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا، کیونکہ حسن اسلیح عالمی سطح پر اسرائیلی مظالم کی کوریج کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی، جہاں وہ جنگ کی ہولناکیوں کو دستاویزی شکل میں پیش کرتے رہے۔
اسلیح ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ناصر اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ انہیں اپریل میں ہونے والے ایک حملے میں شدید چوٹیں آئی تھیں۔ اس حملے میں ان کے ساتھی صحافی حلمی الفقاوی شہید ہو گئے تھے جبکہ متعدد صحافی زخمی ہوئے تھے۔
غزہ میں کام کرنے والے صحافی اور میڈیا ورکرز بارہا یا تو کراس فائر میں آ کر یا براہ راست اسرائیلی افواج کے نشانے پر آ چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل ان حملوں کی مذمت کر رہی ہیں اور خبردار کر چکی ہیں کہ یہ صحافیوں کو خاموش کرانے اور غزہ میں جاری انسانی بحران کی رپورٹنگ کو روکنے کی اسرائیلی مہم کا حصہ ہیں۔

