رکنِ اسمبلی علی مدد جتک محفوظ رہے، حکومتِ بلوچستان کی شدید مذمت
کوئٹہ – بدھ کے روز کوئٹہ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی علی مدد جتک کے قافلے کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 10 افراد زخمی ہو گئے۔ علی مدد جتک اس حملے میں محفوظ رہے۔
دھماکہ اس وقت ہوا جب پی پی پی کا قافلہ جشنِ فتح جلسے میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ ریسکیو ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ اطلاعات کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم متاثرہ افراد کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی شواہد کے مطابق حملے کا مقصد جلسے کو سبوتاژ کرنا اور صوبائی دارالحکومت میں بدامنی پھیلانا تھا۔
حکومتِ بلوچستان نے سینئر سیاستدان علی مدد جتک کے جلسے پر ہونے والے حملے کو بزدلانہ اقدام اور جمہوری اداروں پر حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بدھ کے روز اپنے بیان میں واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا: "یہ حملہ نہ صرف بزدلی کا مظہر ہے بلکہ ہماری جمہوری اساس پر براہِ راست وار ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ منتخب نمائندے عوام کی آواز ہوتے ہیں اور ان پر حملہ دراصل جمہوریت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ "ایسے اقدامات نہ پہلے برداشت کیے گئے، نہ آئندہ کیے جائیں گے۔”
ترجمان نے یقین دلایا کہ حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ "اس گھناؤنے فعل میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔”
شاہد رند نے امن و امان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی اولین ترجیح ہے۔ "امن و استحکام کے خلاف سرگرم عناصر کو کچلنا ناگزیر ہے،” انہوں نے واضح کیا۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ عوام اور عوامی نمائندوں کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ "ایسے واقعات ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ ہم پرامن ماحول اور جمہوری قیادت کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ پُرعزم ہیں،” انہوں نے اپنے بیان میں کہا۔

