پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیسندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، پاکستان نے بھارت کو...

سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، پاکستان نے بھارت کو خط لکھ دیا
س

پاکستان نے گزشتہ روز بھارت کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ (IWT) مکمل طور پر مؤثر ہے اور اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

آبی وسائل کے سیکرٹری سید علی مرتضیٰ کی جانب سے بھارتی ہم منصب کو لکھے گئے اس خط میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی شق میں یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دی گئی۔ خط میں کہا گیا:
"1960 کے سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو کسی بھی فریق کو اس کی معطلی کی اجازت دے۔”

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کے نوٹس میں جو زبان استعمال کی گئی ہے، وہ معاہدے کے قانونی دائرہ کار سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پاکستان نے معاہدے کی اصل شکل میں مکمل پابندی کا اعادہ کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی یا معطلی کے تصور کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، معاہدے میں شامل ضامن ادارہ عالمی بینک بھی بھارت کے مؤقف کو مسترد کر چکا ہے۔

حکام کے مطابق، پاکستان نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ اپیل دائر نہیں کی، تاہم وہ بھارت کی درخواست پر معاہدے کے فریم ورک کے تحت بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ شفقات علی خان نے بھی کہا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو جواب دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ معاہدہ مکمل طور پر مؤثر اور فریقین پر لازم ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"معاہدے میں معطلی یا عارضی طور پر روکنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی ہمارا مؤقف ہے۔”

یاد رہے کہ بھارت نے 23 اپریل 2025 کو پاہلگام میں ہونے والے ایک حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ادھر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ممکنہ پاک-بھارت مذاکرات کے لیے کسی غیر جانبدار مقام پر تیاری کر رہا ہے، اگرچہ بھارت اس پیشکش کو قبول کرنے سے گریزاں ہے۔

باخبر ذرائع نے دی نیشن کو بتایا کہ پاکستان کے پاس مذاکرات کے لیے تمام نکات تیار ہیں۔ ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے کہا:
"ہم کسی بھی غیر جانبدار مقام پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اگر بھارت شرکت پر آمادہ ہو جائے تو مذاکرات فوراً شروع ہو سکتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت بات چیت سے راہِ فرار اختیار کر رہا ہے۔”

ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کے بقول:
"ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات غیر جانبدار مقام پر ہوں کیونکہ بھارت یہاں نہیں آئے گا اور ہم وہاں نہیں جا سکتے۔ صدر ٹرمپ جیسے لوگ اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔”

قبل ازیں، امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک فوری اور جامع جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان شدید کشیدگی کے بعد ایک بڑی پیش رفت قرار دی گئی۔

اس پیش رفت کا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا، جنہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک آئندہ دنوں میں ایک غیر جانبدار مقام پر وسیع البنیاد مذاکرات کریں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں روبیو نے کہا:
"گزشتہ 48 گھنٹوں میں، نائب صدر جے ڈی وینس اور میں نے پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی، جن میں وزرائے اعظم نریندر مودی اور شہباز شریف، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر، پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر، اور دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیر شامل تھے۔”

ان سفارتی رابطوں کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور براہ راست بات چیت پر اتفاق ہوا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں روبیو کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا:
"مارکو، کھڑے ہو جاؤ، تم نے کیا شاندار کام کیا ہے۔ شاید ہم انہیں ایک اچھے عشائیے کے لیے اکٹھا کر لیں۔ کیا ہی اچھا ہو گا!”

تاہم، بھارت نے صدر ٹرمپ کی کشمیر تنازع میں ثالثی کی پیشکش مسترد کر دی اور واضح کیا کہ وہ بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کرتا۔

یہ جنگ بندی اس وقت نافذ ہوئی جب دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو چکی تھی، جس میں سرحد پار مہلک حملے، فضائی جھڑپیں، اور جوہری جنگ کے خدشات شامل تھے۔

یہ کشیدگی 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر میں ایک دہشت گرد حملے سے شروع ہوئی، جس میں 26 افراد مارے گئے۔ بھارت نے بغیر ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی۔

تناؤ اس وقت عروج پر پہنچا جب بھارت نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے۔ جواباً پاکستان نے پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں جدید رافیل بھی شامل تھے، اور آپریشن بنیان المرصوص کے تحت بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں برہموس میزائل کے ذخائر اور پٹھان کوٹ، ادھم پور، گجرات، اور راجستھان کے اہم فضائی اڈے شامل تھے۔

اس بحران کے دوران وزیر خارجہ روبیو نے براہ راست پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے رابطے کیے اور کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا۔ امریکہ کی کوششیں بالآخر جنگ بندی کے معاہدے پر منتج ہوئیں۔

سینئر سفارتکار عبدالباسط نے کہا کہ ان تمام کشیدگیوں کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی ثالثی کی آمادگی کا خیر مقدم کیا، تاہم یہ بھی تسلیم کیا کہ بھارت روایتی طور پر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کرتا رہا ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ بھارت، پاکستان اور امریکہ کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی ایلچی مقرر کیے جائیں جو مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کریں۔
"یہ ایک جرات مندانہ خیال ہے۔ اگر یہ کامیاب ہو جائے تو ٹرمپ نوبل امن انعام کے حقدار ہو سکتے ہیں۔”

الزامات، جوابی بیانات اور متضاد بیانیوں کے باوجود، دونوں ممالک نے 12 مئی کو کشیدگی میں مزید کمی پر اتفاق کیا۔ آئندہ دنوں میں مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے، اور دونوں فریق سرحدوں پر فوجی تعیناتی میں کمی پر بھی متفق ہو چکے ہیں۔

تاہم، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس جنگ بندی کو صرف "وقفہ” قرار دیا، اسے کسی مستقل امن کی علامت ماننے سے انکار کیا۔ پاکستان نے اس بیان کو امن کے لیے خطرناک قرار دے کر اس پر تنقید کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین