امریکی ہفت روزہ میگزین بیرونز نے پاکستان کی حالیہ معاشی بحالی کو سراہتے ہوئے اسے ایک طرح کا "معاشی کرشمہ” قرار دیا ہے، تاہم رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ملک اب بھی نازک معاشی صورتحال اور گہرے ساختی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، "25 کروڑ 50 لاکھ آبادی والا ملک گزشتہ دو برس میں ایک طرح کا معاشی کرشمہ دکھانے میں کامیاب ہوا ہے”، اور اس کے شواہد معاشی استحکام کے کلیدی اشاریوں سے ملتے ہیں۔ رپورٹ میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کو اجاگر کیا گیا ہے، جو مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، جبکہ اپریل 2025 میں گھٹ کر صرف 0.3 فیصد رہ گئی ہے۔
"2031 میں میچور ہونے والے یوروبانڈز کی قیمت 40 سینٹ فی ڈالر سے بڑھ کر 80 سینٹ تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تین گنا ہو گیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت نے گزشتہ ستمبر میں آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کے استحکام معاہدے پر دستخط کیے، جس میں سے 2 ارب ڈالر سے زائد کی رقم پہلے ہی جاری ہو چکی ہے۔”
سینڈ گلاس کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر جینا لوزووسکی نے بیرونز کو بتایا: "پاکستان ایک اچھی کہانی ہے—اتنی اچھی کہ اب ہمارے لیے زیادہ پرکشش نہیں رہی”۔ ان کی کمپنی کمزور معیشتوں کے قرضے خریدنے میں مہارت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ سرحدی جھڑپ کے باوجود پاکستان کی معاشی بحالی کے متاثر ہونے کا امکان کم ہے۔
اسی حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ایک "مختصر المدت کشیدگی” تھی، جس کا مالیاتی اثر معمولی ہے اور اسے حکومت کے موجودہ مالیاتی دائرہ کار میں سمویا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، بیرونز نے نشاندہی کی کہ پاکستان بدستور بین الاقوامی قرض دہندگان، خصوصاً آئی ایم ایف، پر انحصار کرتا ہے اور اب بھی اس کے بیل آؤٹ پروگرام کا حصہ ہے۔
بارنگز کے ایمرجنگ مارکیٹس کے ماہر خالد سلامی نے کہا، "پاکستان اپنی تاریخ میں اکثر معیشتی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے”، تاہم ان کا ماننا ہے کہ اس بار کچھ مختلف اشارے سامنے آئے ہیں۔ "کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس مثبت ہے اور بنیادی مالیاتی توازن (سود کی ادائیگیوں کے بغیر) بھی فاضل ہے، جو کئی سالوں بعد دیکھنے کو ملا ہے۔”
والٹن کیپیٹل مینجمنٹ کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر ایلیسن گراہم نے کہا کہ 2023 میں سب کو توقع تھی کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ دیوالیہ ہو جائے گا، مگر اس کے برعکس، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 10 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کر دیا، جو مہنگائی پر قابو پانے میں اہم قدم ثابت ہوا۔
واضح رہے کہ جون 2024 سے اب تک، مرکزی بینک نے شرح سود میں 1,100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے، اور یہ اس وقت 11 فیصد کے آس پاس ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے خودمختار قرض دہندگان—چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات—نے اپنی قرضوں کی مدت میں توسیع کی، لیکن نئے قرضے فراہم نہیں کیے۔ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح گزشتہ سال 2.5 فیصد رہی، اور ملک کی مالیاتی کتابیں غیر معمولی طور پر متوازن نظر آتی ہیں۔
تاہم، رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کو اب بھی کئی کٹھن چیلنجز درپیش ہیں، جن میں ٹیکس محصولات میں 50 فیصد اضافہ اور بجلی پر دی جانے والی سبسڈی میں کٹوتی شامل ہیں، جیسا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں طے پایا تھا۔
برآمدات کے میدان میں بھی پاکستان کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، "پاکستان کی برآمدات کا دو تہائی حصہ کپاس، ملبوسات اور اجناس پر مشتمل ہے۔ ملک نے حالیہ برسوں میں آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کی جانب قدم بڑھایا ہے، جس کی برآمدات صفر سے بڑھ کر سالانہ 3 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں”، جبکہ بھارت اسی شعبے میں 200 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان ویلیو ایڈیڈ برآمدات کی سیڑھی پر آگے نہ بڑھا، تو "انتخابی اخراجات کے طوفان اور بیرونی حالات کے رحم و کرم پر رہنے والا معیشتی چکر برقرار رہ سکتا ہے۔”
ایلیسن گراہم نے کہا، "پاکستان اب بھی بیرونی جھٹکوں کے لیے انتہائی نازک ہے۔ جب مارکیٹ میں بہتری آئے تو فوراً داخل ہونا پڑتا ہے۔”
دریں اثناء، خالد سلامی پاکستانی یوروبانڈز کے بارے میں پرامید دکھائی دیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے پاکستان کی تزویراتی اہمیت کم ہونے کے بعد اس کے روایتی اتحادی، بشمول چین اور خلیجی ممالک، واضح کر چکے ہیں کہ وہ بغیر شرائط کے مالی مدد نہیں کریں گے۔
"حکومت کو معلوم ہے کہ اگر وہ موجودہ تنگ راہ سے ہٹی، تو اسے بیرونی مالی وسائل میسر نہیں آئیں گے۔”

