چین نے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے میں چینی مصنوعات کو برطانوی سپلائی چین سے خارج کرنے کی شقیں بیجنگ کے مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور عالمی تعاون کو کمزور کرتی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ معاہدہ برطانیہ اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’’ریاستوں کے درمیان تعاون کسی تیسرے فریق کے مفادات کے خلاف یا ان کے نقصان پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں بڑھتی ہوئی تشویش پائی جاتی ہے کہ واشنگٹن دو طرفہ تجارتی معاہدوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چینی سپلائی چینز سے خود کو الگ کریں، جس سے برطانیہ کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
برطانیہ-امریکہ معاہدہ، سفارتی کشیدگی کا باعث
یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’جوابی محصولات‘‘ کے اعلان کے بعد پہلا باضابطہ تجارتی معاہدہ ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، معاہدے میں برطانوی اسٹیل اور گاڑیوں کی برآمدات کے لیے مخصوص رعایتیں دی گئی ہیں، تاہم اس کے لیے برطانیہ کو امریکی قومی سلامتی سے متعلق شرائط، بشمول سیکشن 232 کی تحقیقات، پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
اگرچہ معاہدہ کچھ شعبوں میں محصولات میں کمی فراہم کرتا ہے، مگر برطانوی مصنوعات پر عمومی 10 فیصد محصول برقرار رہے گا۔ برطانوی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معاہدے کی سپلائی چین سے متعلق شقیں واضح طور پر چین کی شمولیت کو محدود کرتی ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کی جانب سے حال ہی میں چین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے اشاروں کے باوجود، ان شرائط نے بیجنگ کو حیرت میں ڈال دیا ہے، حکومتی مشیروں کے مطابق۔
دو بڑی طاقتوں کے درمیان برطانیہ کے لیے تزویراتی خطرات
فنانشل ٹائمز نے نشاندہی کی ہے کہ یہ معاہدہ برطانیہ کو دو عالمی معاشی طاقتوں کے درمیان ایک نازک توازن میں لا کھڑا کرتا ہے۔
چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے امریکی شرائط کو فوری طور پر قبول کرنا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایک چینی حکومتی مشیر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، نے کہا: ’’چین کو جواب دینا ہوگا؛ برطانیہ کو اس معاہدے پر جلد بازی سے دستخط نہیں کرنے چاہیے تھے۔‘‘
چائنا اکیڈمی آف میکرو اکنامک ریسرچ کے سینئر محقق، ژانگ یانشینگ نے معاہدے میں شامل پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’اس قسم کی زہریلی شقیں محصولات سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔ برطانیہ کا یہ اقدام چین کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ چین اس معاملے کو برطانیہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں اٹھائے گا، تاہم فوری جوابی اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے، کیونکہ ان پابندیوں کے اصل محرک امریکہ ہے۔

