پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامییمنی افواج کا ہائپرسانک میزائل حملہ: صیہونی محاصرے کے خلاف مزاحمتی پیغام

یمنی افواج کا ہائپرسانک میزائل حملہ: صیہونی محاصرے کے خلاف مزاحمتی پیغام
ی

صنعاء / مقبوضہ فلسطین – یمنی مسلح افواج نے صیہونی مظالم اور غزہ پر جاری محاصرے کے ردِعمل میں بن گوریون ایئرپورٹ پر ہائپرسانک بیلسٹک میزائل داغنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کارروائی فلسطینی عوام اور غزہ میں مزاحمتی قوتوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کی گئی۔

یمنی بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع کے مطابق، یہ حملہ کامیابی سے مکمل ہوا اور اپنے اہداف کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن صیہونی دشمن کی جانب سے غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسرائیل اپنی جارحیت ختم نہیں کرتا اور غزہ کا محاصرہ نہیں ہٹاتا، یمنی افواج اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

سریع کے مطابق، میزائل حملے کے نتیجے میں بن گوریون ایئرپورٹ پر تقریباً ایک گھنٹے تک پروازوں کی آمد و رفت معطل رہی، اور "لاکھوں قابض صیہونی باشندے” پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہو گئے۔

انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا کے عوام اور حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جاری قتل عام اور بھوک کے ہتھکنڈوں کے خلاف ایک متحد اور اصولی مؤقف اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نسل کشی عالمی خاموشی کے سائے میں کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، صیہونی فوج نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن سے بیلسٹک میزائل داغا گیا تھا، جس کے باعث مقبوضہ القدس اور اطراف کی بستیوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ صیہونی میڈیا کے مطابق، حملے سے چند منٹ قبل بستیوں میں رہائش پذیر افراد کو الرٹ پیغام بھیجا گیا جس میں انہیں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اگرچہ صیہونی فوج نے دعویٰ کیا کہ میزائل کو کامیابی سے روک لیا گیا، لیکن یمنی مسلح افواج نے اس کارروائی کو ایک اور پیغام کے طور پر پیش کیا کہ فضائی ناکہ بندی برقرار ہے اور صیہونی تنصیبات یمن کی میزائل رینج میں ہیں۔

اس حملے کے وقت ایک دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب میں تقریر کر رہے تھے۔ اسرائیلی صحافی باراک راوید کے مطابق، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یمنی میزائل ٹرمپ کے سر کے اوپر سے گزر کر اسرائیل کی طرف بڑھا ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ یمنی افواج نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی، لیکن دیگر امریکی اہداف اس معاہدے میں شامل نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں صیہونی حملے شدت اختیار کر چکے ہیں اور عالمی سطح پر اسرائیلی مظالم پر خاموشی کا رجحان برقرار ہے، جس کے خلاف یمن کی یہ مزاحمتی کارروائی ایک علامتی اور عملی ردعمل بن کر سامنے آئی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین