پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیکانز فیسٹیول میں ڈی نیرو کی ٹرمپ پر کڑی تنقید

کانز فیسٹیول میں ڈی نیرو کی ٹرمپ پر کڑی تنقید
ک

معروف امریکی اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے کانز فلم فیسٹیول 2025 کی افتتاحی تقریب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو "عالمی خطرہ” قرار دیتے ہوئے ان کی پالیسیوں، فلمی صنعت پر محصولات، اور فنون لطیفہ کی سرپرستی میں کٹوتیوں پر شدید تنقید کی۔

"فن، سچائی اور تنوع کا علمبردار ہے، اسی لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے”

ڈی نیرو کو اعزازی پالم ڈی اور (Palme d’Or) پیش کیے جانے کے موقع پر انہوں نے ایک جذباتی تقریر کی جس میں کہا:
"میرے ملک میں ہم اُس جمہوریت کے لیے لڑ رہے ہیں جسے کبھی ہم نے مسلمہ حقیقت سمجھا تھا۔ یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں، ہم سب کا ہے، کیونکہ فن وہ کٹھالی ہے جو لوگوں کو یکجا کرتی ہے، جیسے آج کی رات۔ فن سچ تلاش کرتا ہے، فن تنوع کو گلے لگاتا ہے — اسی لیے فن کو خطرہ سمجھا جاتا ہے۔”

ڈی نیرو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب چند روز قبل ٹرمپ نے امریکہ سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "امریکی فلمی صنعت غیر ملکی مراعات کی وجہ سے تیزی سے ختم ہو رہی ہے”۔ ڈی نیرو نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
"تخلیقیت کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، مگر بظاہر اب اس پر محصول لگایا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے، یہ ناقابل قبول ہے۔”

"صدر نے فن و ثقافت کے اداروں کو کمزور کر دیا”

ڈی نیرو نے صدر ٹرمپ کو "ایک ایسا صدر جسے فنون لطیفہ کی کوئی پروا نہیں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف فن، تعلیم، اور انسانی علوم کے لیے مالی معاونت میں کٹوتی کی، بلکہ خود کو امریکہ کے معروف ثقافتی ادارے ‘کینیڈی سینٹر’ کا سربراہ بھی بنوایا۔
"یہ صرف امریکی مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کو درپیش خطرہ ہے۔ یہ آزادی اور تخلیقی اظہار کی جڑوں پر حملہ ہے۔”

ٹرمپ کے محصولات پر عالمی سطح پر تشویش

ڈی نیرو نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کی محصولات کی پالیسیوں کے وسیع تر اثرات پر بھی بات کی۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ صدی کے مقابلے میں سب سے زیادہ تجارتی محصولات عائد کیے ہیں — گزشتہ سال 2.5 فیصد کے مقابلے میں اب اوسط محصول 22.5 فیصد ہو گیا ہے۔

ماہرینِ معیشت خبردار کر رہے ہیں کہ یہ پالیسیاں افراطِ زر کو بڑھا سکتی ہیں، امریکی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتی ہیں، اور عام شہری کے لیے زندگی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔

ڈی نیرو نے زور دے کر کہا کہ یہ پالیسیاں صرف امریکہ ہی نہیں، عالمی استحکام کے لیے بھی خطرناک ہیں۔

آزادی کے دفاع میں اتحاد اور احتجاج کی اپیل

اپنی تقریر کے اختتام پر ڈی نیرو نے شرکاء سے پُرعزم مگر پرامن جدوجہد کی اپیل کی۔
"اب وقت آ گیا ہے کہ جو لوگ آزادی سے محبت کرتے ہیں، وہ منظم ہوں، احتجاج کریں، اور جب انتخابات آئیں تو ضرور ووٹ ڈالیں،”

انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر کے فنکار، شہری اور عوام مل کر ایسی پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہوں جو آزادی، فن اور انسانیت کو محدود کرتی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین