پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامی’بیطار امریکہ‘: صہیونی دہشت گردی کا نیا چہرہ اور ’کہانزم‘ کی تاریک...

’بیطار امریکہ‘: صہیونی دہشت گردی کا نیا چہرہ اور ’کہانزم‘ کی تاریک بازگشت

تحریر: ایوان کیسک

’بیطار امریکہ‘، جو کہ ایک عالمی شدت پسند صہیونی تنظیم کا امریکی بازو ہے، فلسطین کے حامی کارکنوں کو امریکہ بھر میں جسمانی و آن لائن ہراساں کرنے کے لیے بدنام ہو چکی ہے۔ یہ گروہ اُن سخت گیر صہیونی تنظیموں کی باقیات ہے جنہیں دہشت گردی کی بنیاد پر امریکہ میں پابندی کا سامنا رہا ہے۔

گزشتہ 18 ماہ، خصوصاً جب سے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کش جنگ کا آغاز ہوا ہے، اس گروہ کی سرگرمیوں—نفرت انگیز تقاریر، نجی معلومات کے انکشاف، انعامی اعلانات، اور انتقامی دھمکیوں—نے میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں میں خاصی تشویش پیدا کی ہے۔

یہ گروہ نہ صرف فلسطین کے حامی طلبہ کو نشانہ بناتا ہے، بلکہ اس کا موجودہ سربراہ ’رون توروسیان‘، اسرائیلی سیاسی جماعت لیکوڈ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی روابط رکھتا ہے، اور ’بیطار امریکہ‘ کو ایک ممنوعہ دہشت گرد نظریے ’کہانزم‘ کے تحت دوبارہ فعال کر چکا ہے۔

صہیونی دہشت گردی کی جڑیں

’بیطار‘ تحریک کی بنیاد 1923 میں لٹویا کے شہر ریگا میں ’زیو جابوٹنسکی‘ نے رکھی، جو کہ ’ریویژنزم صہیونزم‘ کے بانی اور یورپی فاشزم کے مداح تھے۔ اس تحریک کا مقصد اردن کے دونوں کناروں پر ایک عسکری صہیونی ریاست کا قیام تھا، جس میں مقامی فلسطینیوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔

’بیطار‘ تحریک فلسطین میں داخل ہونے والے صہیونی شدت پسندوں کی عسکری تربیت کرتی اور غیرقانونی طریقے سے یورپی یہودیوں کو فلسطین منتقل کرتی تھی۔ اس کے اراکین نے بعد میں ’ارگون‘ جیسے دہشت گرد گروہوں میں شمولیت اختیار کی، جو برطانوی افواج اور عرب شہریوں پر حملے کرتے تھے۔

اس تحریک کے زیر سایہ کئی اسرائیلی وزرائے اعظم، وزرائے جنگ، اور سفارتکار پروان چڑھے، جنہوں نے اسرائیل کے نسل پرستانہ نظام کو مضبوط کیا۔

کہانے اور کہانزم کا ابھار

بیطار کے اراکین میں ’میر کہانہ‘ بھی شامل تھا، جس نے ’یہودی ڈیفنس لیگ‘ (JDL) اور ’کاچ پارٹی‘ کی بنیاد رکھی، جنہیں امریکہ اور اسرائیل دونوں نے دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔

’کہانزم‘ ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظریہ ہے جو یہودیوں اور غیر یہودیوں کے مکمل تفریق، جبری جلاوطنی، یا غلامی پر یقین رکھتا ہے۔ یہ نظریہ اب بیطار امریکہ کے ذریعے امریکہ میں دوبارہ جنم لے چکا ہے۔

بیطار امریکہ کی نئی شکل

جون 2023 میں، رون توروسیان نے بیطار امریکہ کو دوبارہ فعال کیا۔ وہ ایک اسرائیلی نژاد امریکی پی آر ایگزیکٹو ہے جو نوجوانی میں میر کہانہ کا پیروکار رہا، اور اسرائیلی آبادکار تنظیموں سے بھی وابستہ رہا۔

توروسیان نے کئی مواقع پر کہانہ کو "عظیم ترین یہودی رہنما” قرار دیا، اور مجرم دہشت گردوں جیسے ’باروخ گولڈسٹین‘ اور ’امی پوپر‘ کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے درجنوں فلسطینی شہریوں کو قتل کیا۔

بیطار امریکہ اب نہ صرف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پھیلاتی ہے بلکہ مظاہروں میں جسمانی تصادم، دھمکیاں، اور فلسطین کے حامی طلبہ کے خلاف نفرت انگیز مہم بھی چلاتی ہے۔ ان کے ارکان صہیونی نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کو کھلے عام فروغ دیتے ہیں۔

امریکی قوانین کی خلاف ورزیاں

قانونی ماہرین کے مطابق، بیطار امریکہ کی سرگرمیاں کئی امریکی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں:

  1. انٹر اسٹیٹ کمیونیکیشنز ایکٹ (18 U.S.C. § 875): جو بین الریاستی دھمکیوں کو جرم قرار دیتا ہے۔ بیطار کے باؤنٹی اعلانات اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اس میں آتے ہیں۔
  2. سائبر اسٹاکنگ اسٹیچیوٹ (18 U.S.C. § 2261A): جو سوشل میڈیا کے ذریعے ہراسانی اور خوف پھیلانے کو قابل سزا جرم قرار دیتا ہے۔ بیطار کی جانب سے طلبہ کی ذاتی معلومات شائع کرنا اس قانون کے دائرے میں آتا ہے۔
  3. سِول رائٹس ایکٹ 1964 (Title VI): جو نسلی و مذہبی تعصب پر مبنی تعلیمی ماحول کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بیطار کی یونیورسٹی کیمپس پر سرگرمیاں تعلیمی اداروں کو وفاقی تحقیقات کا سامنا کروا سکتی ہیں۔

ریاستی قوانین کی خلاف ورزیاں

نیویارک اور کیلیفورنیا میں بھی بیطار امریکہ کی سرگرمیاں متعدد قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں:

  • نیویارک کے ہراسانی قوانین (Penal Law § 240.30, § 120.45): جو نسل یا مذہب کی بنیاد پر ہراسانی کو جرم قرار دیتے ہیں۔
  • کیلیفورنیا کا سائبر اسٹاکنگ قانون (Penal Code § 646.9): جو الیکٹرانک ذرائع سے ہراسانی پر سزا دیتا ہے۔
  • بدنامی (Defamation) اور نجی معلومات کا غیر قانونی انکشاف: جن کے تحت متاثرہ طلبہ عدالت سے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

نتیجہ

بیطار امریکہ نہ صرف ایک دوبارہ جنم لینے والی دہشت گرد تنظیم ہے بلکہ اس کی سرگرمیاں امریکی آئین، انسانی حقوق، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اس کے لیڈر کے اسرائیلی دائیں بازو اور امریکی سیاسی حلقوں سے قریبی تعلقات اسے ایک خطرناک نظریاتی و عملی قوت بناتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اب اس تنظیم کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین