پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیجرمنی میں ’افراطی‘ قرار دیے جانے پر ٹرمپ انتظامیہ کو غصہ کیوں...

جرمنی میں ’افراطی‘ قرار دیے جانے پر ٹرمپ انتظامیہ کو غصہ کیوں آیا؟
ج

تحریر: ایوان کیسک

جرمنی کی خفیہ ایجنسی نے رواں ماہ کے اوائل میں دائیں بازو کی جماعت ’آلٹرنیٹو فار جرمنی‘ (AfD) کو ایک ’’انتہا پسند گروہ‘‘ قرار دیا، تاہم امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایلون مسک کے اعتراضات کے بعد یہ فیصلہ فی الحال معطل کر دیا گیا ہے۔

AfD، ایک دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت ہے جو مہاجرین، بالخصوص 2015 کے یورپی مہاجر بحران کے دوران، مہاجرت مخالف بیانیے کی وجہ سے نمایاں ہوئی۔
اسلام اور مہاجرین کے خلاف زہر آلود بیانات، نفرت انگیز تقاریر اور جرمنی کے ہولوکاسٹ ماضی کو معمولی ظاہر کرنے جیسے مؤقف کی وجہ سے یہ جماعت طویل عرصے تک سیاسی دھارے کے کنارے رہی۔

تاہم فروری 2025 کے انتخابات میں یہ جماعت 21 فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں دوسری بڑی سیاسی قوت بن گئی، جس نے جرمنی کے سیاسی منظرنامے کو چونکا دیا۔

جرمنی نے AfD کو انتہا پسند کیوں قرار دیا؟

جرمن وفاقی خفیہ ادارے بی ایف وی (Federal Office for the Protection of the Constitution) نے ایک 1100 صفحات پر مشتمل رپورٹ کی بنیاد پر AfD کو "تصدیق شدہ دائیں بازو کی انتہا پسند تحریک” قرار دیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ AfD ایک ایسے نسلی و نسلیاتی قوم پرستانہ تصور کو فروغ دیتی ہے جو مسلمانوں اور تارکین وطن جیسے طبقات کو مساوی سماجی شرکت سے خارج کرتا ہے۔ یہ تصور جرمنی کے آئینی جمہوری نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔

AfD کا منشور سخت امیگریشن پالیسی، ’’ری مائیگریشن‘‘ یعنی غیر ملکیوں اور غیر ہم آہنگ شہریوں کی ملک بدری، اور اسلام کو جرمن اقدار کے لیے خطرہ قرار دینے جیسے نکات پر مشتمل ہے۔

پارٹی کے بعض رہنما، جیسا کہ بیورن ہوئکے، نازی دور کو ہلکا ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے ہولوکاسٹ میموریل کو ’’شرمندگی کی یادگار‘‘ کہا اور نازی دور کے ممنوعہ نعروں کا استعمال کیا۔

ایسی سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پارٹی جرمنی کی بعد از جنگ عالمی جنگ دوم کی جمہوری اقدار کو رد کرتی ہے۔ رپورٹ میں ان کے انتہا پسند گروہوں، بشمول نیو نازی عناصر، سے روابط کا بھی ذکر کیا گیا۔

AfD 2021 سے ہی بطور ’’مشکوک انتہا پسند گروہ‘‘ نگرانی میں تھی، لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پارلیمانی جماعت کو باضابطہ ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کو اعتراض کیوں؟

افراطی قرار دیے جانے سے خفیہ اداروں کو جماعت پر کڑی نگرانی، مخبروں کے استعمال اور رابطوں کی جاسوسی جیسے اقدامات کا اختیار مل جاتا ہے۔ اگرچہ یہ جماعت پر پابندی نہیں، تاہم اس سے اس کے خلاف سخت اقدامات کے مطالبات کو تقویت ملی ہے۔

جرمنی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام جمہوریت کے تحفظ اور نازی ماضی کے اسباق کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
تاہم AfD قیادت، جیسا کہ ایلس وائیڈل، نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔

AfD نے تین دن بعد عدالت سے رجوع کیا، اور 8 مئی کو خفیہ ایجنسی نے جماعت کو باضابطہ ’’انتہا پسند تحریک‘‘ کہنا فی الحال روک دیا، جب تک عدالت کوئی حتمی فیصلہ نہ دے۔

ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس فیصلے کو ’’جمہوریت کے نام پر آمریت‘‘ قرار دیا۔ وینس نے کہا، ’’برلن کی دیوار ہم نے مل کر گرائی تھی، اور اب جرمن اسٹیبلشمنٹ نے خود ہی اسے پھر کھڑا کر دیا ہے۔‘‘

مارکو روبیو نے خفیہ ادارے کے اختیار کو ’’اپوزیشن پر جاسوسی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے برعکس قرار دیا۔

روس نے بھی اس فیصلے پر اعتراض کیا، کیونکہ AfD یوکرین کو عسکری امداد دینے کی مخالف ہے۔

ایلون مسک کی AfD سے وابستگی

ایلون مسک، جنہیں ٹیسلا، اسپیس ایکس اور X (سابقہ ٹوئٹر) کے مالک کے طور پر جانا جاتا ہے، نے نہ صرف AfD کی حمایت کی بلکہ اس کے رہنماؤں سے براہِ راست روابط بھی قائم کیے۔

انہوں نے دسمبر 2024 میں کہا تھا کہ "صرف AfD ہی جرمنی کو بچا سکتی ہے” اور ایک جرمن اخبار میں اسے "جرمنی کی آخری امید” قرار دیا۔

جنوری 2025 میں انہوں نے AfD رہنما وائیڈل کے ساتھ X پر ایک لائیو سیشن کیا، جس میں انہیں "بہت معقول” کہا اور نوجوان ووٹرز سے AfD کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

انہوں نے ایک جلسے سے ورچوئل خطاب میں جرمنی کے "ماضی کے جرم” پر حد سے زیادہ زور دینے کی مذمت کرتے ہوئے "قومی فخر” کی وکالت کی۔

ایلون مسک کا AfD سے وابستہ نیو میڈیا انفلوئنسر ناؤمی زیبٹ سے بھی گہرا رابطہ ہے، اور وہ ان کے مواد کے ساتھ درجنوں بار تعامل کر چکے ہیں۔

اگرچہ مسک کی حمایت نے AfD کو نوجوانوں میں مقبولیت دی، تاہم اس کا انتخابی نتیجے پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔

یورپ میں دائیں بازو کی حمایت

مسک نے نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ بھر میں دائیں بازو کی جماعتوں کی کھلے عام حمایت کی ہے۔
ان میں ریفارم یوکے (نائیجل فراج کی جماعت)، اٹلی کی ’’برادرز آف اٹلی‘‘، ہنگری کے وکٹر اوربان، نیدرلینڈز کے گیرٹ وِلڈرز اور اسپین کی ’’ووکس‘‘ پارٹی شامل ہیں۔

انہوں نے نائیجل فراج کو عطیہ دینے کی بات کی جس پر برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے انتخابی عمل میں بیرونی مداخلت کے خلاف قانون سازی کی بات کی۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے ان کا ٹکراؤ بھی اسی سلسلے میں ہوا، جس میں مسک نے برطانیہ کو ’’پولیس اسٹیٹ‘‘ کہا۔

یورپی قیادت کی برہمی

جرمنی کے چانسلر اولاف شولز، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے مسک کی سیاسی مداخلت کو ’’ناقابل قبول‘‘ اور ’’جمہوریت کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسک کے مقاصد خالص نظریاتی نہیں بلکہ ذاتی مفاد، کاروباری آزادی، اور یورپی ریگولیشنز سے نجات کی خواہش سے جڑے ہوئے ہیں۔

جرمنی میں ٹیسلا فیکٹری سے متعلق ریگولیٹری مشکلات نے بھی ان کی ناراضی بڑھائی ہے۔
تاہم ان کے قریبی ساتھی ٹرمپ کی انتظامیہ کی حمایت کو محض کاروباری مفاد کہنا مشکل ہے۔

بین الاقوامی دائیں بازو-صہیونی اتحاد

AfD اور ٹرمپ انتظامیہ کے باہمی تعلق کی جڑیں 2010 کی دہائی میں اسٹیو بینن کی کوششوں میں ملتی ہیں، جنہوں نے ارب پتی شیلڈن ایڈلسن کی مالی مدد سے دنیا بھر میں دائیں بازو اور قدامت پسند جماعتوں کو جوڑنے کی کوشش کی۔

بینن کا مقصد ایک بین الاقوامی دائیں بازو کا بلاک بنانا تھا جو مہاجرت، اسلام اور ضوابط مخالف ایجنڈے پر متحد ہو۔

AfD اور اس جیسے دیگر گروہ اسی غیر رسمی مگر منظم نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جو آج یورپ کے جمہوری استحکام کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین