پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیروس-یوکرین امن مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہونے کی وجوہات

روس-یوکرین امن مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہونے کی وجوہات
ر

سفارتی کشیدگی پھر بڑھ گئی: استنبول میں روس-یوکرین مذاکرات کی توقعات اور حقیقت

چند روز قبل تک تو عالمی توجہ ماسکو میں روس کی 80ویں سالگرہ کے جیت کے دن کی پریڈ پر تھی، لیکن اب اچانک تمام نظریں استنبول پر مرکوز ہو گئی ہیں، جہاں روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہو سکتے ہیں — یہ پہلا موقع ہوگا جب 2022 کی بہار کے بعد فریقین کی ایسی بات چیت ہوگی، اور یہ مذاکرات جمعرات کو ہو سکتے ہیں۔

ان ممکنہ مذاکرات کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے مغربی ممالک کی جانب سے 12 مئی سے 30 دن کی جنگ بندی کی درخواست پر جواب دیا۔ یوکرین کے صدر وولادیمیر زیلنسکی نے ابتدا میں اس تجویز کو مسترد کرنے کا عندیہ دیا تھا، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے دباؤ — جو حد درجہ سخت تھا — کے بعد انہوں نے اپنی پوزیشن بدلی۔

لیکن زیلنسکی نے اپنی شرائط بھی رکھی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات فوری طور پر سب سے اعلیٰ سطح پر ہوں، ورنہ بات چیت نہ کی جائے۔ اگر ان کی شرائط کو نظرانداز کیا گیا تو انہوں نے روس کے خلاف مزید پابندیوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

اس سب کے باعث استنبول ملاقات کے حوالے سے توقعات بہت بلند ہو گئی ہیں۔ لیکن کیا یہ توقعات حقیقت پر مبنی ہیں؟ کیا واقعی ہم کسی بڑی پیش رفت کے قریب ہیں؟

روس-یوکرین امن مذاکرات کیوں ناکام ہو سکتے ہیں؟

  1. گہرے سیاسی اور علاقائی اختلافات:
    روس اور یوکرین کے درمیان بنیادی اختلافات بہت گہرے ہیں۔ روس نے کریمیا کو ضم کر لیا ہے اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ یوکرین اپنی مکمل خودمختاری اور سرحدی سالمیت پر اٹل ہے۔ یہ بنیادی تنازعات اتنے پیچیدہ اور جذباتی ہیں کہ فوری حل ممکن نہیں۔
  2. اعتماد کا فقدان:
    دونوں فریق ایک دوسرے پر مکمل عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ گزشتہ برسوں کی جنگ اور خونریزی نے اعتماد کو بہت کمزور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات میں سنجیدگی اور مثبت رویہ لانا مشکل ہے۔
  3. میدان جنگ کی صورت حال:
    دونوں ممالک کی فوجی صورتحال مذاکرات کو متاثر کرتی ہے۔ اگر کوئی فریق محسوس کرے کہ وہ جنگ میں برتری حاصل کر رہا ہے، تو وہ مذاکرات کی بجائے طاقت کے ذریعے حل کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اس وقت روس اور یوکرین دونوں اپنے اپنے علاقوں میں مختلف فوجی پیش رفت کر رہے ہیں، جو بات چیت کو مشکل بنا سکتی ہے۔
  4. عالمی طاقتوں کا دباؤ:
    امریکہ، یورپ اور نیٹو جیسے عالمی کھلاڑی اپنی اپنی ترجیحات اور مفادات کے ساتھ معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، جو مذاکرات کے فریم ورک کو پیچیدہ بناتا ہے اور بعض اوقات سچائی پر مبنی سمجھوتے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
  5. اندرونی سیاسی دباؤ:
    یوکرین کی حکومت اپنے عوام اور بین الاقوامی اتحادیوں کے دباؤ میں ہے کہ وہ سخت موقف اختیار کرے۔ روس کے اندر بھی سخت گیر حلقے ہیں جو کسی نرم رویے کے مخالف ہیں۔ اس لیے دونوں قیادتیں مذاکرات میں لچک دکھانے میں ہچکچاتی ہیں۔
  6. مذاکرات کا فریم ورک اور ایجنڈا طے نہ ہونا:
    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مذاکرات میں کیا موضوعات زیر بحث آئیں گے اور کیسے جنگ بندی یا دیگر حساس مسائل حل ہوں گے۔ بغیر واضح ایجنڈے کے مذاکرات کا مثبت نتیجہ مشکل ہے۔

نتیجہ:

اگرچہ امن مذاکرات کی کوششیں قابل ستائش ہیں، مگر موجودہ سیاسی، فوجی اور سفارتی صورتحال میں ان کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔
یہ مذاکرات یا تو صرف رسمی اور ظاہر ی کوشش بن کر رہ جائیں گے یا پھر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جائیں گے۔
پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقوں میں اعتماد بحال ہو، سیاسی دباؤ کم ہو، اور مذاکرات کا واضح اور قابل قبول فریم ورک طے ہو۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین