سپریم کورٹ: جسٹس نعیم افغان کا سوال — ایجنسیوں پر الزامات کے باوجود صدر، وزیرِ اعظم اور وزارتِ قانون کو کیوں ملوث کیا جا رہا ہے؟
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن جسٹس نعیم اختر افغان نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرریوں سے متعلق تنازع پر ریمارکس دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب عدالتی امور میں مداخلت کے الزامات انٹیلی جنس ایجنسیوں پر لگائے گئے ہیں، تو صدر، وزیرِ اعظم اور وزارتِ قانون کے دفاتر کو اس تنازع میں کیوں گھسیٹا جا رہا ہے؟
یہ ریمارکس سینئر وکیل منیر اے ملک کے دلائل کے دوران سامنے آئے، جو اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے پانچ ججز کی طرف سے پیش ہو رہے تھے۔ منیر اے ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ تین ججز کی آئی ایچ سی میں منتقلی کی اصل وجہ وہ خط ہے جو چھ IHC ججز نے 25 مارچ 2024 کو سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا تھا، جس میں انٹیلی جنس اداروں پر عدالتی امور میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
جسٹس افغان نے سوال کیا کہ اگر الزامات ایجنسیوں پر ہیں تو ان تین اعلیٰ عہدوں کو بدنیتی کے جواز کے طور پر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ججز کی تقرری کے آئینی عمل میں کوئی کردار ہی نہیں تو وہ یہ نظام کیسے متاثر کر سکتی ہیں؟
پانچ رکنی آئینی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس محمد علی مظهر کر رہے تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز — جسٹس محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحاق خان اور سمن رافت امتیاز — کی مشترکہ درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تین ججز کو نیا حلف لیے بغیر IHC کا حصہ تصور نہ کیا جائے۔
وکیل نے بتایا کہ خط کے بعد ججز کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوئی، جس میں خط پر دستخط کرنے والے جج کی ڈگری اور دوسرے جج کی وفاداری کو چیلنج کیا گیا، حتیٰ کہ ایک جج کے بیڈروم میں کیمرے نصب کیے جانے کے الزامات بھی لگے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سب ایک "منصوبہ بندی” کے تحت وزیراعظم اور وزارتِ قانون کے دفاتر میں تیار کیا گیا تاکہ IHC پر کنٹرول حاصل کیا جائے، اور اگر صدر نے بھی اس میں کردار ادا کیا تو یہ "قانونی بدنیتی” کے زمرے میں آتا ہے۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے 13 سالہ عدالتی کیریئر میں کسی ایجنسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ IHC ججز کے خط کے بعد تمام ہائی کورٹس میں فل کورٹ اجلاس ہوئے، جن میں یہ متفقہ طور پر قرار دیا گیا کہ عدالتی امور میں ایجنسیوں کی کوئی مداخلت نہیں ہوئی اور یہ مسئلہ صرف IHC تک محدود ہے۔
جسٹس حسن نے کہا کہ صدر اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے ارکان پر بدنیتی کے الزامات بہت سنگین نوعیت کے ہیں۔
جواب میں وکیل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی مثال دی جنہیں IHC سے ہٹایا گیا تھا لیکن بعد میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے مؤقف کو درست قرار دیا۔ انہوں نے حکومتی شخصیات کے میڈیا انٹرویوز کا بھی حوالہ دیا۔
اس پر جسٹس صلاح الدین پنہور نے سوال کیا کہ کیا آئینی بینچ اخباری تراشوں یا انٹرویوز کی بنیاد پر فیصلے دینے کا پابند ہے؟
وکیل نے مزید کہا کہ جب JCP نے IHC میں دو اضافی ججز مقرر کیے تو تین مستقل نشستیں خالی چھوڑ دی گئیں۔ اس پر صدرِ مملکت نے آرٹیکل 200 کے تحت ان نشستوں کو پر کیا، حالانکہ آئین کے مطابق مستقل ججز کی تقرری کا اختیار صرف JCP کو حاصل ہے۔ آرٹیکل 200 صرف وقتی تقرری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جسٹس مظهر نے وکیل اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان دونوں سے وضاحت مانگی کہ JCP نے تین نشستیں خالی کیوں چھوڑیں۔
وکیل نے الزام لگایا کہ لاہور ہائی کورٹ سے سینیارٹی میں 16 ویں نمبر کے جج کو IHC میں لاکر سینئر ترین پوزیشن پر بٹھایا گیا، اور ان تین ججز کی منتقلی کے بعد IHC کی ایڈمنسٹریٹو اور پروموشن کمیٹیاں بھی تبدیل کر دی گئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تبادلے عوامی مفاد میں نہیں بلکہ ذاتی اور غیر متعلقہ مفادات کے تحت کیے گئے۔

