پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیبین اینڈ جیری کے شریک بانی فلسطینیوں کے قتلِ عام پر امریکی...

بین اینڈ جیری کے شریک بانی فلسطینیوں کے قتلِ عام پر امریکی شراکت داری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سینیٹ میں گرفتار
ب

بین اینڈ جیری کے شریک بانی بین کوہن امریکی سینیٹ میں غزہ میں قتلِ عام کے خلاف احتجاج پر گرفتار

بین اینڈ جیری آئس کریم کے شریک بانی اور طویل عرصے سے ترقی پسند کارکن، بین کوہن، کو بدھ کے روز امریکی سینیٹ کی سماعت کے دوران احتجاج کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ لاکھوں امریکیوں کی نمائندگی کر رہے تھے جو غزہ میں جاری "قتلِ عام” پر مشتعل ہیں۔

74 سالہ کوہن سات مظاہرین میں شامل تھے جنہوں نے صحت کے وزیر رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی گواہی کے دوران ان کی تقریر میں خلل ڈالا، جو اپنے محکمہ کے بجٹ پر بات کر رہے تھے۔ کوہن نے نعرہ لگایا:
"کانگریس غزہ میں غریب بچوں کو بم خرید کر مارتی ہے، اور اس کی قیمت امریکہ میں میڈیکیڈ سے بچوں کو نکال کر ادا کرتی ہے۔”
(میڈیکیڈ ایک امریکی سرکاری ہیلتھ انشورنس پروگرام ہے جو کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ہوتا ہے)

کاپیٹل پولیس نے انہیں ہتھکڑیاں لگا کر گرفتار کر لیا۔

الجزیرہ کے مطابق، امریکی کیپیٹل پولیس نے کہا کہ مظاہرین پر "ہجوم کرنے، رکاوٹ ڈالنے یا تکلیف دینے”، پولیس اہلکار پر حملے یا گرفتاری کی مزاحمت جیسے الزامات عائد کیے گئے۔ تاہم بین کوہن پر صرف "ہجوم کرنے، رکاوٹ ڈالنے یا تکلیف دینے” کا الزام لگا، جو ایک معمولی جرم ہے اور اس کی سزا 90 دن قید یا 500 ڈالر جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں۔

جب کوہن کو لے جایا جا رہا تھا، تو انہوں نے سینیٹرز سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ "بھوک سے مرنے والے بچوں” تک خوراک پہنچنے دے۔ اپنی رہائی کے بعد انٹرویو میں انہوں نے کہا:
"ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہی تھا۔ یہ باعثِ شرم ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے بم دیے ہیں، جبکہ اپنے ملک میں سماجی پروگراموں پر کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:
"امریکیوں کی اکثریت اس پر ناراض ہے کہ ہمارا ملک ہمارے پیسے اور ہمارے نام پر کیا کر رہا ہے۔”

پیُو ریسرچ سینٹر کے حالیہ سروے کے مطابق، امریکی عوام میں اسرائیل کے حوالے سے منفی رائے میں خاص طور پر ڈیموکریٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

بین کوہن نے کہا کہ یہ صرف بجٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بحران بھی ہے:
"ہزاروں لوگوں کے قتلِ عام کی حمایت اور اس میں شراکت انسانیت اور امریکی اقدار کی توہین ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے آدھے اختیاری بجٹ کو جنگی اخراجات پر خرچ کرتا ہے، اور اگر یہی پیسہ دنیا بھر میں زندگی بہتر بنانے پر خرچ کیا جائے تو "تنازعات میں واضح کمی آ سکتی ہے۔”

انہوں نے مثال دی:
"اگر کوئی تین سالہ بچہ دوسرے بچوں کو مارتا ہے، تو ہم اسے کہتے ہیں ‘الفاظ استعمال کرو’۔ ممالک کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے — قتل سے نہیں۔”

بین کوہن، جو خود بھی یہودی ہیں، اسرائیلی پالیسی کے طویل مدتی ناقد ہیں۔ گزشتہ سال وہ ان یہودی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیل نواز لابی AIPAC کے خلاف ایک کھلا خط جاری کیا۔

انہوں نے کہا:
"میں جانتا ہوں کہ میری آواز سنی جاتی ہے، لیکن میں لاکھوں افراد کی نمائندگی کرتا ہوں جو میرے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔”

اس ماہ کے آغاز میں ایک انٹرویو میں، سابق فاکس نیوز ہوسٹ ٹکر کارلسن سے گفتگو کرتے ہوئے، کوہن نے کہا:
"امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک عجیب تعلق ہے جس میں واشنگٹن اسرائیل کو نسل کشی کے لیے ہتھیار فراہم کرتا ہے۔”

انہوں نے کہا:
"اس وقت امریکی ہونے کا مطلب ہے کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے ہتھیار فروش ہیں، ہماری فوج سب سے بڑی ہے، اور ہم غزہ میں لوگوں کے قتلِ عام کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر کوئی اس پر احتجاج کرے تو ہم اسے گرفتار کر لیتے ہیں۔ تو ہمارا ملک کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟”

2021 میں، بین اینڈ جیری نے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ میں اپنی آئس کریم کی فروخت بند کر دیں گے کیونکہ یہ ان کی "اخلاقی اقدار کے منافی” ہے۔

بعد ازاں، بین اینڈ جیری نے اپنی پیرنٹ کمپنی Unilever کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس پر الزام تھا کہ اس نے برانڈ کے سماجی مشن کی حمایت کرنے پر ان کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ اسٹیور کو برطرف کر دیا۔

غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 51,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک فوڈ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، غزہ قحط کے "انتہائی خطرے” سے دوچار ہے، مکمل آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے، اور 22 فیصد لوگ انسانی "آفت” کے دہانے پر ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین