پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ پر اسرائیلی 'قبضے' کے منصوبے کے بعد جنگ بندی پر بات...

غزہ پر اسرائیلی ‘قبضے’ کے منصوبے کے بعد جنگ بندی پر بات چیت کا کوئی جواز نہیں: حماس
غ

حماس کا اسرائیل کے منصوبے پر ردعمل: جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کا امکان نہیں

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور غیرمعینہ مدت کے لیے قبضے کے منصوبے کے بعد حماس نے کہا ہے کہ اب غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے نئے معاہدے پر بات چیت کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے کہا کہ اسرائیل کی نئی تجاویز پر بات نہیں کی جائے گی، جسے انہوں نے "بھوکا مارنے کی جنگ” قرار دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نئے منصوبے کا مقصد حماس کی قید میں موجود یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کو شکست دینا ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے پیر کو اس منصوبے کی منظوری دی تھی، جس میں غزہ پر قبضہ اور فلسطینیوں کو جنوبی علاقے میں منتقل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے کو وزیر اعظم نتن یاہو نے "شاندار” قرار دیا ہے اور اس کا مقصد حماس کو شکست دینا اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنانا ہے۔ عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں نے اسرائیلی منصوبے پر تنقید کی ہے، جبکہ حماس نے اسے سیاسی بلیک میلنگ کے مترادف قرار دیا۔

اسرائیلی فوج کا غزہ میں کارروائیوں کو وسعت دینے کا اعلان، ناقدین کی تنقید

اتوار کو اسرائیل کے سکیورٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے غزہ میں اپنے آپریشن کو مضبوط اور وسعت دینے کے لیے دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے لوگوں کو گھر واپس لانے اور حماس کو شکست دینے کے مقصد کے تحت دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ ہم اضافی علاقوں میں آپریشن کریں گے اور زمین کے اوپر اور نیچے دہشت گردی کے تمام ڈھانچے کو تباہ کر دیں گے۔”

تاہم اس حکمت عملی پر ناقدین نے شدید اعتراض کیا ہے، کیونکہ چھ ہفتے قبل کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے باوجود 59 یرغمالیوں میں سے کسی کو بھی رہا نہیں کیا جا سکا۔ یرغمالیوں کے لواحقین کی نمائندگی کرنے والے خاندانوں نے حکومت کی طرف سے یرغمالیوں کے رہائی کے بارے میں فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ یہ منصوبہ اسرائیل میں عوام کی مرضی کے خلاف ہے۔

اسرائیلی اہلکاروں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سکیورٹی کابینہ نے نجی کمپنیوں کے ذریعے انسانی امداد کی فراہمی کے منصوبے کی منظوری دی ہے تاکہ حماس کو امداد کی رسد پر کنٹرول حاصل کرنے سے روکا جا سکے اور اس کے حکومتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین