پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیامریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات میں 90 دن کا وقفہ، محصولات...

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات میں 90 دن کا وقفہ، محصولات میں کمی
ا

چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے بعد 90 دن کے لیے محصولات میں کمی

چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازعے کے بعد ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس میں دونوں ممالک نے ٹیرف یا ٹیکس میں 90 دن کے لیے کمی کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ امریکی خزانہ کے سیکرٹری سکاٹ بسینٹ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک محصولات کو ایک سو پندرہ فیصد تک لے آئیں گے۔

یہ معاہدہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کیا گیا، جو کہ جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر محصولات بڑھانے کے فیصلے کے بعد پہلی باضابطہ بات چیت تھی۔ اس معاہدے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ عالمی منڈیوں میں استحکام واپس آئے گا۔

چین اور امریکہ کے درمیان ٹیکس میں کمی: امریکہ نے فینٹانل کی تجارت روکنے پر دباؤ ڈالا

حالیہ پیشرفت کے مطابق، امریکہ چینی مصنوعات پر عائد ٹیکس میں 30 فیصد جبکہ چین امریکی مصنوعات پر 10 فیصد تک کمی کرے گا، یہ کمی نوے دن کے لیے ہوگی۔

ان مذاکرات کے دوران امریکہ نے چین پر یہ دباؤ بھی ڈالا کہ وہ فینٹانل نامی غیر قانونی دوا کی تجارت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین نے اس مسئلے پر دلچسپی ظاہر کی، جس سے انہیں مثبت طور پر حیرانی ہوئی۔

چین اور امریکہ کی تجارتی مذاکرات: ایک نیا موڑ

چین اور امریکہ کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات میں ایک نیا موڑ آیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے اپنے مفادات کی نمائندگی کرتے ہوئے بات چیت کا آغاز کیا۔ امریکی سیکرٹری نے کہا کہ دونوں ممالک متوازن تجارت کی خواہش رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے قومی مفادات کو اچھی طرح پیش کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی سٹاک مارکیٹ میں مثبت اثرات دیکھنے کو ملے ہیں، اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تجارتی جنگ میں ٹھنڈک آ رہی ہے۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں تک سخت بیانات آتے رہے، لیکن اس ہفتے وہ مذاکرات کی میز پر آ گئے ہیں۔ سابق امریکی اہلکار سٹیفن اولسن کے مطابق، دونوں ممالک نے اس بات کا یقین کیا کہ انھوں نے پسپائی نہیں دکھائی، اور اسی لیے بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ بات چیت امریکی درخواست پر ہو رہی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ چین نے معیشت پر منفی اثرات کی وجہ سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ زیادہ اہم ہے کہ بات چیت میں کیا ہوتا ہے، نہ کہ یہ کہ پہل کس نے کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین