شیو سینا (یو بی ٹی) نے "آپریشن سندور” کی ناکامی پر مودی اور امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا
نئی دہلی:
بھارت کی اپوزیشن جماعت شیو سینا (یو بی ٹی) نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آپریشن سندور” کی ناکامی قومی شرمندگی کا باعث بنی ہے۔
جماعت کے سینئر رہنما سنجے راوت نے بیان دیا کہ "مودی کو اب اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں رہا”، کیونکہ فوجی کارروائی کی ناکامی کے بعد امریکہ کی ثالثی میں پاکستان کے ساتھ جنگ بندی پر رضامندی بھارت کے لیے ایک سفارتی پسپائی ہے۔
یہ مطالبہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی حکومت کو نہ صرف فوجی ناکامی بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے ہونے والے سفارتی دباؤ پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں پاک-بھارت کشیدگی میں کمی آئی۔
سنجے راوت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلائے، جس میں "آپریشن سندور”، جنگ بندی، اور اپریل میں پاہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے پر تفصیلی بحث کی جائے۔
دوسری جانب کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی ان مطالبات کی تائید کرتے ہوئے آل پارٹیز اجلاس اور پارلیمانی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم کو لکھے گئے ایک خط میں حکومت کی فوجی کارروائی اور بعد ازاں پیدا ہونے والی سفارتی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید تنقید کی ہے۔
"آپریشن سندور” پر اپوزیشن کی شدید تنقید — خارجہ مداخلت، حکمت عملی کی ناکامی پر سوالات
نئی دہلی:
"آپریشن سندور” کی ناکامی اور امریکی ثالثی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اپوزیشن نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے حکومت کی عسکری حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو قوم کے سامنے اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے جڑا ہوا ہے، جس پر خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔
عام آدمی پارٹی (AAP) کی ترجمان پرینکا ککڑ نے ایک غیر ملکی طاقت کی جانب سے بھارت کے اندرونی معاملے میں ثالثی کے کردار پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ بھارت کی سفارتی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو داخلی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بیرونی مداخلت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں بیشتر اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، وہیں کانگریس کے ایم پی ششی تھرور نے ایک نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تمام عسکری اہداف حاصل نہیں ہو سکے، لیکن جنگ بندی ایک عملی فیصلہ تھا تاکہ تنازع طویل نہ ہو۔
آر جے ڈی کے ایم پی منوج جھا نے امریکی کردار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ثالثی کی کوئی مثال قائم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے راہول گاندھی کے پارلیمان کا خصوصی اجلاس بلانے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو جوابدہ بنایا جانا ضروری ہے۔
سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن نے کہا کہ اس بحران کے نتائج بھارت کے لیے سفارتی طور پر نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور اس سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید حوصلہ افزائی مل سکتی ہے۔

