اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ 290 روپے فی امریکی ڈالر کے ایکسچینج ریٹ پر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت آئندہ مالی سال میں بیرونی کھاتوں کے نسبتاً مستحکم رہنے کی توقع پر مبنی ہے، جس کے باعث روپے کی قدر میں صرف 3.6 فیصد کمی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
290 روپے فی ڈالر کا ایکسچینج ریٹ روپے کی 10 روپے یا 3.6 فیصد قدر میں کمی کو ظاہر کرتا ہے، جو گزشتہ ایک سال کے دوران کرنسی مارکیٹ کے رجحان سے ہم آہنگ ہے۔ ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی ہے کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ تخمینے 290 روپے فی ڈالر کی بنیاد پر تیار کیے جائیں۔
یہ ریٹ دفاعی بجٹ کے ان حصوں کی تیاری میں بھی استعمال ہوگا جو غیر ملکی خریداریوں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں سے متعلق ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اپنا دفاعی بجٹ 18 فیصد بڑھا کر 2.5 کھرب روپے سے زائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی ایکسچینج ریٹ کو پاکستان کے بیرون ملک مشنز اور پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے بجٹ میں بھی بطور معیار استعمال کیا جائے گا۔
موجودہ مالی سال کا بجٹ بھی 290 روپے فی ڈالر کے تخمینے پر ہی بنایا گیا تھا، لیکن روپے کی قدر کافی حد تک مستحکم رہی۔ ذرائع کے مطابق اب حکومت نے رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ تخمینے 280 روپے فی ڈالر کی بنیاد پر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپے کا ریٹ 281.56 روپے رہا۔
گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ "زیادہ لچکدار ایکسچینج ریٹ بیرونی اور اندرونی جھٹکوں سے نمٹنے اور زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بنانے میں مددگار ہوگا”۔ آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ اگلے مالی سال میں پاکستان کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 17.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو 2.8 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے اور رواں مالی سال کے مقابلے میں قدرے بہتر پوزیشن ہوگی۔شدید معاشی جھٹکوں کے بعد پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، تاہم حکومت ابھی مکمل طور پر درآمدی پابندیاں ختم کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح اب بھی کمزور ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کے ایکسچینج ریٹ کے مستحکم رہنے کی ایک وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا کم رہنا ہے، جو جی ڈی پی کے تقریباً 0.4 فیصد کے برابر ہے۔ یہ خسارہ دو ارب ڈالر سے بھی کم ہے اور بیرونی قرضوں کی آمد سے باآسانی پورا کیا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح تقریباً 7.7 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس کی ایک بڑی وجہ روپے کے مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اندازہ ہے کہ آئندہ مالی سال میں روپے کی قدر 299 روپے فی ڈالر کے آس پاس رہ سکتی ہے۔ وزارت خزانہ نے اس تخمینے سے اتفاق نہیں کیا اور بجٹ 290 روپے فی ڈالر کی شرح سے بنانے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق برآمد کنندگان نے حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ روپے کو مزید آزاد چھوڑا جائے۔
آئندہ مالی سال میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا تخمینہ تقریباً 1.2 کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر حکومت نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8.7 کھرب روپے مختص کرنے کا ارادہ کیا ہے، جو حالیہ شرحِ سود میں کمی کے بعد کچھ کم بھی ہو سکتا ہے۔
رواں مالی سال میں پاکستان کے بیرونی قرضے نسبتاً قابو میں رہے، کیونکہ اسٹیٹ بینک نے نئے غیر ملکی قرضے لینے کے بجائے مقامی مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی حکمت عملی اپنائی۔ اسٹیٹ بینک کی پیر کے روز جاری کردہ قرضہ بلیٹن کے مطابق مارچ 2025 کے اختتام تک بیرونی قرضہ 130.3 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 80 کروڑ ڈالر کم ہے۔
اس کمی کی اہم وجہ طویل المدتی بیرونی قرضوں میں کمی تھی۔ تاہم، پاکستان کو آئندہ مالی سال میں پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے تقریباً 25 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ ان میں سے تقریباً 13 ارب ڈالر ہر سال دوطرفہ قرض دہندگان کی جانب سے رول اوور کر دیے جاتے ہیں۔ حکومت اس وقت آئندہ مالی سال کے زرمبادلہ ذخائر اور قرضوں کی ضروریات کا تخمینہ لگا رہی ہے۔
لیکن پاکستان کے مجموعی قرضے اور واجبات مارچ کے آخر تک بڑھ کر 89.8 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ حکومتی قرضوں میں اضافہ ہے، جو کہ 13 فیصد بڑھ کر 73.7 کھرب روپے تک جا پہنچے ہیں، جیسا کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

