بیجنگ اور ماسکو نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کی خارجہ پالیسیوں کو دنیا میں عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔
یہ مشترکہ بیان چینی صدر شی جن پنگ کے ماسکو کے سرکاری دورے کے دوران جاری کیا گیا، جو دوسری جنگ عظیم کے اختتام کی یاد میں روس کے یومِ فتح کی تقریبات کے موقع پر ہوا۔
دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے یقینی اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا: "امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو کو بحرالکاہل کے ایشیائی خطے تک وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اس خطے میں ‘چھوٹے حلقے’ قائم کر رہے ہیں اور ‘انڈو پیسفک اسٹریٹجی’ کے تحت ممالک کو اپنی جانب مائل کر رہے ہیں، جو علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”
شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن نے دفاعی و دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا اور امریکہ کی جانب سے دونوں ممالک کے خلاف اختیار کردہ "دوہری دباؤ” کی پالیسی کا مشترکہ اور ٹھوس جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے جنگِ عظیم دوم کی تاریخ کے درست تناظر پر زور دیا اور اس کے نتائج کو مسخ کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔ انہوں نے نیونازیت، عسکریت پسندی، نسل پرستی اور غیرملکیوں سے نفرت جیسے رجحانات کے دوبارہ ابھرنے کو روکنے کا عزم ظاہر کیا۔
شی اور پیوٹن نے یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر عائد کردہ پابندیاں "اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی” اور "بین الاقوامی سلامتی کو نقصان” پہنچاتی ہیں۔
یہ مؤقف ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب روس یوکرین جنگ کے سبب مغربی پابندیوں کا شکار ہے جبکہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
چینی صدر کے چار روزہ دورے کے دوران روسی صدر سے چار گھنٹے طویل سربراہی ملاقات ہوئی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
روس نے "ون چائنا پالیسی” کی مکمل تائید دہراتے ہوئے چین کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی اداروں میں قریبی رابطے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں، دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی، توانائی، ای کامرس اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں وسعت دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ باہمی قانونی تعاون کے فریم ورک کو مضبوط بنانے اور "چین-روس ثقافتی سال” کے تحت تعلیمی و ثقافتی اقدامات کو جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا گیا۔
عالمی معاملات پر چین اور روس نے کثیر قطبی دنیا، خودمختاری کے احترام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔
یوکرین بحران سے متعلق دونوں ممالک کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے حل کے لیے اس کے بنیادی اسباب کو سمجھنا اور تمام ممالک کے سلامتی مفادات کو "ناقابل تقسیم سلامتی” کے اصول کے تحت مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

