پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیبیجنگ میں سیلاک فورم، شی جن پنگ کا امریکہ پر بالواسطہ تنقید

بیجنگ میں سیلاک فورم، شی جن پنگ کا امریکہ پر بالواسطہ تنقید
ب

بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ نے لاطینی امریکہ اور کیریبین ریاستوں کے رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے "دھونس اور بالادستی” کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی، جو ماہرین کے مطابق امریکہ پر ایک بالواسطہ تنقید تھی۔

یہ خطاب منگل کے روز منعقدہ چائنا-سیلا (CELAC) فورم کے دوران کیا گیا، جس میں چین نے لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی کو اجاگر کیا — یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ:
"دنیا میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اتحاد اور تعاون ہی واحد راستہ ہے۔”

انہوں نے اعلان کیا کہ چین لاطینی امریکہ اور کیریبین میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 9.2 ارب ڈالر کے قریب قرضہ جات فراہم کرے گا، جو اس خطے میں چین کے اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار ہے۔

یہ فورم ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب امریکہ نے چین کے ساتھ جاری تجارتی کشمکش میں ٹیرف (درآمدی محصولات) میں تیزی سے اضافہ کیا — یہ شرح اس سال 145 فیصد تک جا پہنچی تھی۔

تاہم، پیر کے روز واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک 90 روزہ نرمی کا معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکہ چینی اشیاء پر ٹیرف 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد تک لائے گا، جبکہ چین امریکی درآمدات پر عائد 125 فیصد ٹیرف کو 10 فیصد تک کم کرے گا۔

صدر شی نے کہا:
"تجارتی جنگوں یا ٹیرف کے تنازعات میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔”

فورم میں کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں، جن میں برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نمایاں تھے، جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کی موجودگی چین-برازیل تعلقات کی مضبوطی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون پر بات چیت جاری ہے۔

کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے بھی اس موقع پر اعلان کیا کہ ان کا ملک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) میں شمولیت کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ منصوبہ 2013 میں صدر شی جن پنگ نے شروع کیا تھا، جس کا مقصد دنیا بھر کے ممالک کو بنیادی ڈھانچے، تجارت اور اقتصادی انضمام کے ذریعے آپس میں جوڑنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، چائنا-سیلا فورم چین کے لیے لاطینی امریکہ اور کیریبین جیسے خطوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک پلیٹ فارم بن چکا ہے — جو روایتی طور پر امریکہ کے زیرِ اثر شمار ہوتے ہیں۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب صدر شی نے صرف چند روز قبل ماسکو کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ہوئی۔
اس ملاقات میں عالمی امور پر باہمی حمایت اور تعاون پر زور دیا گیا، جو چین کی بدلتے عالمی تناظر میں نئی سفارتی صف بندی کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین