ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کا فروغ نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ یہ خطے میں امن اور سلامتی کے قیام میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے یہ بات پیر کے روز ازبکستان کے وزیرِ اعظم عبداللہ عریپوف سے ملاقات کے دوران کہی، جو ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے اتوار کو تہران پہنچے تھے تاکہ ایرانی حکام سے اہم مذاکرات کیے جا سکیں۔
صدر پزیشکیان نے کہا:
"ہم باہمی تعلقات کو گہرا کرنے اور تجربات، صلاحیتوں اور کامیابیوں کے تبادلے کے ذریعے اپنے عوام کو زیادہ آسائش، فلاح و بہبود فراہم کر سکتے ہیں اور خطے میں مزید امن، سلامتی اور استحکام لا سکتے ہیں۔”
انہوں نے ایران اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی، لسانی اور نظریاتی اشتراکات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی سرحدیں کبھی بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکیں اور نہ ہی آئندہ کر سکیں گی۔
صدر ایران نے دونوں ممالک کے حکام اور عوام کے درمیان وفود کے تبادلے کو باہمی تعلقات کے فروغ میں نہایت مؤثر قرار دیا اور کہا کہ اس سے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
ازبکستان کے وزیرِ اعظم عبداللہ عریپوف نے بھی اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کے صدور کی سنجیدہ کوششوں نے مشترکہ اہداف کے حصول اور باہمی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے ایران کی سائنسی، صنعتی اور تکنیکی کامیابیوں کی نمائش کا دورہ کرنے کے بعد مختلف شعبوں میں ایران کی قابلِ قدر ترقی کی تعریف کی۔
اس موقع پر ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف اور وزیرِ اعظم عریپوف کی موجودگی میں ایران اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے چار اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

