اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیایران کی فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت

ایران کی فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت
ا

ایران نے غزہ کی پٹی میں واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں درجنوں بے گناہ شہری، بشمول کئی شیر خوار بچے، شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے غزہ پر اسرائیل کے اندھا دھند حملوں کو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور اس کے رکن ممالک اخلاقی طور پر اس قتلِ عام کو روکنے کے پابند ہیں اور اسرائیلی حکومت کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری پر مجبور کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

بقائی نے زور دیا کہ اسرائیلی حکومت اور اس کے عہدیداروں کے خلاف جنگی جرائم، نسل کشی، اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں تیز تر کارروائی ناگزیر ہے۔

انہوں نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے فوری طور پر روکے جائیں اور غزہ کے مظلوم عوام تک خوراک اور ادویات کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسرائیلی حکومت کے بدعنوان عہدیداروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، غزہ کی پٹی سے قابض افواج کے مکمل انخلا کو یقینی بنائے، اور اس صیہونی حکومت کی شام، لبنان اور یمن سمیت خطے کے دیگر ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا موثر جواب دے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے تاریخی "طوفان الاقصیٰ” کارروائی کے بعد غزہ میں قتلِ عام کا آغاز کیا۔ یہ کارروائی اسرائیل کے فلسطینی عوام پر جاری مظالم کے ردِ عمل میں کی گئی تھی۔

غزہ میں اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد، تل ابیب حکومت نے حماس کی پرانی شرائط کے تحت 19 جنوری کو جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، تاہم دو ماہ بعد اسرائیل نے یکطرفہ طور پر یہ جنگ بندی توڑ دی اور غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کر دی۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت نے غزہ کا محاصرہ اس قدر سخت کر دیا ہے کہ خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات بھی غزہ کے 23 لاکھ شہریوں تک نہیں پہنچ رہیں۔

مارچ کے اوائل سے جاری اس محاصرے نے غزہ کے صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور کسی بھی قسم کی طبی امداد کی رسائی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے امداد کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ خیراتی اداروں کے کچن — جو کہ غزہ کے عوام کے لیے آخری ذریعہ خوراک ہیں — سامان کی قلت کے باعث بند ہونا شروع ہو گئے ہیں، اور مزید بندشوں کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 52,862 ہو چکی ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین