اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیایران: جوہری مذاکرات کے ساتھ پابندیاں واشنگٹن کی متضاد پالیسی ہے

ایران: جوہری مذاکرات کے ساتھ پابندیاں واشنگٹن کی متضاد پالیسی ہے
ا

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے باوجود واشنگٹن کی جانب سے تہران پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے پر ایران نے امریکہ کے دوغلے طرزِ عمل پر شدید تنقید کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں تین ایرانی شہریوں اور "فُویا پارس پراسپیکٹیو ٹیکنالوجسٹس” نامی کمپنی کو ہدف بنایا گیا ہے، جن پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے لیے استعمال ہونے والی دوہری نوعیت کی تحقیق اور ترقی میں ملوث ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق، ان پابندیوں کے تحت مذکورہ افراد اور کمپنی کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکی اداروں اور افراد کو ان سے کسی بھی قسم کے تجارتی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔

یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام اور تہران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے لیے بالواسطہ مذاکرات کا چوتھا دور مکمل ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے اصولی طور پر مذاکرات کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے، جو عمان کی ثالثی میں جاری ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تختِ روانچی، جو مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں، نے امریکی حکومت کے متضاد طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے دھمکی آمیز اور غیر دھمکی آمیز بیانات اعتماد قائم کرنے کے بجائے شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "بات چیت کے دوران وہ اس عمل کے جاری رہنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اسی لیے اب تک چار دور مکمل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ آئندہ دور کی تاریخ طے نہیں ہوئی، لیکن اصولی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔”

تختِ روانچی نے کہا کہ ایرانی عوام "انتہائی ظالمانہ” پابندیوں کی زد میں ہیں اور ملک کی سفارتی مشینری ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔

"پابندیاں عوام کے مختلف طبقوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ قومی پالیسیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے بھرپور سفارتی کاوشیں کی جائیں،” انہوں نے کہا۔

تختِ روانچی نے زور دیا کہ ایران کے معاشی مسائل کا حل صرف پابندیوں کے خاتمے میں نہیں، بلکہ داخلی اقتصادی نظم و نسق کی بحالی بھی بنیادی ضرورت ہے۔

"میں یہ نہیں کہتا کہ ملک کا اقتصادی حل صرف پابندیوں کے خاتمے میں ہے۔ اصل کام ملک کے اندر اقتصادی نظم و ضبط قائم کرنا ہے، اور پھر دوسرا قدم بیرونی محاذ پر اٹھانا ہے تاکہ مسائل کا سدباب ممکن ہو،” انہوں نے کہا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے راستے پر گامزن ہے، لیکن مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔

"ہم اس بات کا تعین نہیں کر سکتے کہ یہ مسائل کب اور کیسے حل ہوں گے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں، لیکن راستہ آسان نہیں، اور چیلنجز بہت زیادہ ہیں،” تخت روانچی نے کہا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین