اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی دباؤ ناکام، مزاحمت کامیاب ہوگی: شیخ نعیم قاسم

اسرائیلی دباؤ ناکام، مزاحمت کامیاب ہوگی: شیخ نعیم قاسم
ا

حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے لبنانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی اور عسکری دباؤ کے خلاف متحد ہوں اور مزاحمت کی حمایت جاری رکھیں۔

یہ خطاب انہوں نے حزب اللہ کے سینئر کمانڈر شہید مصطفی بدرالدین کی نویں برسی کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے شہید کمانڈر کو تحریک مزاحمت کی بنیاد رکھنے والے افراد میں سے ایک قرار دیا۔

انہوں نے کہا، "شہید مصطفی بدرالدین ان اولین مجاہدین میں شامل تھے جنہوں نے 1982 میں خلدہ، جنوبی بیروت میں اسرائیلی قبضے کے خلاف جنگ لڑی۔ وہ قربانی اور جرأت کی علامت تھے، اور ان کا راستہ آج بھی مزاحمت کے لیے مشعل راہ ہے۔”

شام پر اسرائیلی حملے ناقابل قبول ہیں

شیخ قاسم نے شام پر جاری اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا، "ہم شام پر اسرائیلی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ہم شام کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو اپنے اہداف حاصل کرنے سے روکیں، جیسا کہ وہ ماضی میں استقامت کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔”

فلسطینی اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے

فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت میں شیخ قاسم نے واضح کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا، "فلسطینیوں نے عزت و وقار کی خاطر سب کچھ قربان کیا ہے، اور وہ ہرگز ہار نہیں مانیں گے۔”

انہوں نے 17 مئی 1983 کے معاہدے کا حوالہ دیا، جو امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پایا تھا اور جسے جلد ہی مزاحمت کے دباؤ پر منسوخ کر دیا گیا۔ "یہ معاہدہ منسوخ ہوا، اور اس کے ساتھ ہی لبنان میں اسرائیلی قبضے کے عزائم بھی ناکام ہوئے۔”

انہوں نے حزب اللہ کی دفاعی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے کہا، "مزاحمت نے اسرائیلی دشمن کو روک کر اس کے لبنانی سرزمین پر قابض ہونے کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔ مزاحمت نے اسرائیل کو لبنان پر اپنی مرضی کے ذلیل کُن معاہدے مسلط کرنے سے روکا۔”

شیخ قاسم نے کہا، "ہم انصاف کے منطق پر قائم ہیں، نہ کہ جھکاؤ کے۔ ہم لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھیں گے۔ دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پائے گا۔”

شہادت و قربانی کا راستہ جاری رہے گا

انہوں نے حزب اللہ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، "ہم مزاحمت اور قربانی کے راستے پر قائم ہیں۔ سید حسن نصراللہ کی قیادت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ مزاحمت مضبوط اور باوقار رہے گی۔”

انہوں نے زور دیا کہ مزاحمت کی استقامت دشمن کو مایوس کر دے گی۔ "جب مزاحمت اپنی طاقت برقرار رکھے گی، دشمن ہماری استقامت سے مایوس ہو جائے گا، اور ہم مزید عزت و وقار حاصل کریں گے۔”

جنگ بندی کی ہزاروں خلاف ورزیاں

شیخ قاسم نے اسرائیل پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا۔ "اسرائیل نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے 3,000 سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل اب سیاسی دباؤ کے ذریعے مزاحمت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ "اسرائیل اب سیاسی ذرائع سے مزاحمت کو ختم کرنا چاہتا ہے، مگر یہ کوشش بھی ناکام رہے گی۔”

لبنانی حکومت کو مضبوط ردِعمل دینا ہوگا

انہوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف زیادہ فیصلہ کن اقدامات کرے۔ "لبنانی ریاست کو اسرائیلی خلاف ورزیوں کا مضبوطی سے جواب دینا ہوگا۔”

انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت کو تنہا کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام رہے گی۔ "جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ مزاحمت کو اکیلا کر سکتا ہے، وہ خام خیالی میں ہے۔ آپ ہمیں سیاسی نقشے سے نکالنے میں ناکام رہے ہیں، اور آئندہ بھی ناکام رہیں گے۔”

لبنان میں فتنہ پروری کی مذمت

شیخ قاسم نے اسرائیل کے مقامی حامیوں پر الزام لگایا کہ وہ فتنہ و فساد کے ذریعے لبنان کو تباہ کر رہے ہیں۔ "اسرائیل کے خادموں کا فتنہ لبنان کو تباہ کر رہا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جو اردگرد کے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔”

انہوں نے ان عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "ہم اسرائیل کے ان خادموں سے کہتے ہیں: اپنے قومی شعور کی طرف واپس آئیں تاکہ ہم مل کر کام کر سکیں۔”

تعمیرِ نو اور ریاست کی بحالی پر زور

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ لبنان کے مستقبل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ "ہم نئے دور کا حصہ ہیں اور اس کے ثمرات کے شریک دار بھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ عناصر جو ماضی میں مخصوص وجوہات کی بنا پر مختلف موقف اختیار کرتے رہے، اب ملک کی تعمیر کے لیے اپنے موقف پر نظر ثانی کریں۔”

انہوں نے لبنانی قیادت پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی قبضے، جارحیت اور قیدیوں کی رہائی کو اولین ترجیح بنائے۔ "دوسری ترجیح تعمیر نو ہونی چاہیے، اور میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اسے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست رکھے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو معاشی و سماجی طور پر ریاست کی تعمیر نو اور بینکوں میں جمع شدہ عوام کے رقوم کی واپسی کو بھی اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین