PKK دہشت گرد گروہ کا تحلیل ہونے کا اعلان، ترکی کے ساتھ مسلح تصادم کا خاتمہ
PKK (کردستان ورکرز پارٹی) نے اپنے مسلح جدوجہد کو ختم کرنے اور ترکی کے خلاف 40 سالہ جنگی مہم کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اہم فیصلہ فرات نیوز ایجنسی نے جاری کیا، جو PKK سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔
PKK کی 12ویں کانگریس، جو شمالی عراق میں منعقد ہوئی، نے تنظیم کو تحلیل کرنے اور اس کی مسلح جدوجہد کو روکنے کی قرارداد منظور کی۔ یہ اقدام اس کے قید شدہ رہنما عبداللہ اوجلان کی امن اور جمہوری حل کی حمایت میں کی جانے والی اپیل کے مطابق ہے، جنہوں نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔
ترک حکومت کا ردعمل:
ترک حکومت نے اس فیصلے کا محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ پیشرفت طویل المدتی امن کی طرف لے جائے گی۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ PKK کے اس فیصلے سے ترکی میں امن کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کی نگرانی اور مستقبل میں مزید اقدامات کی ضرورت ہو گی۔
PKK کا پس منظر:
PKK کو نیٹو، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے دہشت گرد تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس تنظیم نے ترکی کے خلاف اپنے دہشت گردانہ حملوں میں تقریباً 40,000 افراد کی جان لی ہے۔ یہ تنازعہ 1970 کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا تھا اور اس دوران کئی بار امن مذاکرات کی کوششیں کی گئیں، مگر کبھی بھی مکمل کامیابی نہیں ملی۔
عبداللہ اوجلان کا کردار:
1999 میں یونان کے حکام نے کہا تھا کہ انہوں نے عبداللہ اوجلان کو کیپ ٹاؤن میں اپنی سفارتی کمپاؤنڈ میں عارضی پناہ دی تھی۔ تاہم، اوجلان نے کینیا کے حکام کے ساتھ ایمسٹرڈیم جانے کا فیصلہ کیا، لیکن انہیں ترک حکام نے گرفتار کر لیا تھا، جس کے بعد وہ قید میں ہیں۔
مستقبل کے امکانات:
PKK کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا گیا ہے، لیکن اس کے عملی نفاذ اور ترکی میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ خاص طور پر سیاسی حل اور کرد مسئلے کے حل کی جانب ترکی کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
عبداللہ اوجلان کا پی کے کے کے تحلیل ہونے کا مطالبہ، اسرائیل کی مفادات پر اثرات کا خدشہ
ترک فورسز نے عبداللہ اوجلان کو گرفتار کیا تھا اور انہیں ترکی کے جزوی قوانین کے تحت مسلح گروپ تشکیل دینے کے جرم میں سزائے موت دی تھی۔ تاہم، 2004 میں ترکی میں سزائے موت کو ختم کیے جانے کے بعد اوجلان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا۔
عبداللہ اوجلان نے اس سال 27 فروری کو ایک بیان میں پی کے کے کی تحلیل اور اس کے تمام ذیلی گروپوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا، اور دہشت گردی کی مہم ختم کرنے کی اپیل کی۔
پی کے کے کی تحلیل کا اثر اسرائیل پر:
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، پی کے کے کی تحلیل کا مطالبہ علاقے میں ایک اہم تبدیلی کو جنم دے سکتا ہے، جو اسرائیل کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسرائیلی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اس تبدیلی سے اسرائیل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ترکی کی حکمت عملی اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے مفادات پر اثرات:
اسرائیل کی نظر میں یہ تبدیلی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر شام میں جہاں ترکی اور اسرائیل کے مفادات مختلف ہیں۔ پی کے کے کی تحلیل کے نتیجے میں اسرائیل کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ اس تنظیم کا شام میں خاصا اثر و رسوخ تھا، خاص طور پر کرد علاقے میں جہاں اسرائیل نے اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کی کوششیں کی ہیں۔
ترکی کا ردعمل:
ترکی کے حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پی کے کے کا تحلیل ہونا اور اس کے دہشت گردانہ مہم کا خاتمہ خطے میں امن اور استحکام کا باعث بنے گا۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے اس تبدیلی کے بارے میں اٹھائے گئے خدشات ظاہر کرتے ہیں کہ ترکی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا تاثر اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

