پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی: چین بمقابلہ مغربی فوجی ٹیکنالوجی کا پہلا آزمائشی میدان
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ تنازعہ نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے نوعیت میں اہم تبدیلی کو جنم دیا۔ اس کشیدگی کے دوران، بھارتی فضائیہ کے فرانسیسی ساختہ 4.5 جنریشن رافیل لڑاکا طیارے پہلی بار جنگ میں گرائے گئے۔
چین اور مغربی فوجی ٹیکنالوجی کی رقابت
پاکستان نے اس تنازعے میں امریکی ساختہ ہتھیاروں کے بجائے چینی ہتھیاروں کا استعمال کیا، جبکہ بھارت نے روسی ہتھیاروں سے مغربی ممالک کی ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے رخ کیا ہے۔ یہ نیا مرحلہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑائی نہیں ہے بلکہ چین اور مغربی فوجی ٹیکنالوجی کا ایک عملی تجربہ بھی ہے۔ اس جنگ نے ممکنہ طور پر عالمی اسلحہ کی مارکیٹ میں نئی رقابت کو جنم دیا ہے، اور اس کے اثرات پیرس، واشنگٹن، اور نیٹو سے وابستہ ریاستوں پر پڑ سکتے ہیں۔
چین کے PL-15 میزائل کا کردار
کئی تجزیہ کاروں نے فضائی جھڑپوں پر روشنی ڈالی ہے، اور کچھ نے چینی ساختہ PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائل کو جنگ کا فیصلہ کن ہتھیار قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں میزائل کے حصے دکھائے گئے ہیں، جن پر واضح سیریل مارکنگز اور ایک سیکر ٹیسٹ پورٹ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ایک اور تصویر میں میزائل کے سیکر ہیڈ کو دکھایا گیا ہے، جو ایک فعال الیکٹرانکلی اسکین شدہ ایری (AESA) رڈار سے لیس ہے، جو بہتر ٹریکنگ اور جامنگ کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور ہے۔
عالمی سطح پر اثرات
یہ تنازعہ چین اور مغربی فوجی ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نئے دور کی نشان دہی کرتا ہے، جس کے اثرات عالمی اسلحہ کی مارکیٹ اور بین الاقوامی سیاست پر پڑ سکتے ہیں۔ اس میں چین کے میزائل ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور مغربی دفاعی ٹیکنالوجی کے مقابلے کی عکاسی کی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں عالمی دفاعی حکمت عملیوں میں تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے۔
چینی PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائل: خصوصیات اور افادیت
PL-15، جو چین کی ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن (AVIC) نے تیار کیا ہے، ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا رڈار گائیڈڈ میزائل ہے جو 200 کلومیٹر سے زیادہ کی رینج میں ہوا میں موجود اہم ہدفوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
خصوصیات:
- فعال رڈار گائیڈنس:
PL-15 ایک فعال رڈار گائیڈڈ ایئر ٹو ایئر میزائل ہے، جو اس کی ہدف کو بہتر طور پر ٹریک اور لاک کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ خصوصیت اس کو اپنے دشمن کے دفاعی اقدامات جیسے جامنگ سسٹمز سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ - میزائل کی رینج:
PL-15 کی رینج 200 کلومیٹر تک ہے، جو اسے دوسرے بیشتر ایئر ٹو ایئر میزائلز سے زیادہ دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہ طویل فاصلے سے دشمن کے لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو لڑائی کے دوران اہم فائدہ فراہم کرتا ہے۔ - مقابلہ:
PL-15 کو امریکہ کے AIM-120D ایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائل (AMRAAM) کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ AIM-120D ایک معروف امریکی میزائل ہے جو جدید لڑائیوں میں استعمال ہوتا ہے اور PL-15 کو اس کی کارکردگی سے ملتا جلتا سمجھا جاتا ہے۔ - مقصد:
اس میزائل کو خاص طور پر چین کے فضائیہ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ وہ دشمن کے لڑاکا طیاروں کو طویل فاصلے سے ہدف بنا سکے اور اپنے طیاروں کی حفاظت کر سکے۔
چینی PL-15E میزائل: پاکستان کے فضائی دفاع میں نئی طاقت
چینی PL-15 میزائل کا برآمد شدہ ورژن، PL-15E، پاکستان کے JF-17 Block III اور J-10CE لڑاکا طیاروں میں نصب کیا گیا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رینج 145 کلومیٹر تک ہے، جو اسے ایک اہم ایئر ٹو ایئر میزائل بناتی ہے جو جنوبی ایشیائی فضائی جنگی میدان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خصوصیات:
- رینج:
PL-15E کی زیادہ سے زیادہ رینج 145 کلومیٹر ہے، جو اس کو اپنے دشمن کے طیاروں کو دوری سے نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اس کے برعکس، چین کی مقامی فوجی ورژن میں رینج 300 سے 500 کلومیٹر تک ہو سکتی ہے۔ - میزائل کا نصب کرنا:
پاکستان ایئر فورس نے 26 اپریل کو JF-17 طیاروں کو PL-15E اور PL-10 میزائلوں سے مسلح کرتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔ پاکستان کی فضائیہ کے پاس تقریباً 45 سے 50 JF-17 Block III اور 20 J-10CE طیارے ہیں، جو PL-15E میزائل کو تعینات کرنے کے قابل ہیں۔ - گائیڈنس سسٹم:
PL-15E کا گائیڈنس سسٹم جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس میں انرشیل نیویگیشن، بیڈو سیٹلائٹ اپڈیٹس، دو طرفہ ڈیٹا لنک، اور AESA رڈار ٹرمینل ہومنگ شامل ہیں، جو اس کی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ - میزائل کی رفتار اور وارہیڈ:
یہ میزائل دو پلس سولیڈ راکٹ موٹر سے لیس ہے اور اس کی رفتار Mach 5 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس کا وارہیڈ عموماً ہائی ایکسپلوسیو فریکمنٹیشن ہوتا ہے، جس کا وزن 20 سے 25 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ - ماخذ:
یہ میزائل ممکنہ طور پر چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (PLAAF) سے حاصل کیا گیا ہو سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستان کی فضائی دفاع میں اہمیت
PL-15E میزائل نے پاکستان کی فضائیہ کو ایک جدید ایئر ٹو ایئر لڑائی کے میدان میں مضبوط پوزیشن فراہم کی ہے۔ یہ میزائل اپنے طیاروں کو طویل فاصلے سے دشمن کے طیاروں کو نشانہ بنانے کی طاقت دیتا ہے، جس سے پاکستان کی فضائیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
جنوبی ایشیا میں چینی PL-15 میزائل کا جنگی استعمال: پاکستان اور بھارت کی فضائی حکمت عملی
چین ساختہ PL-15 میزائل نے جنوبی ایشیا کے فضائی دفاعی میدان میں ایک نیا سنگ میل طے کیا ہے، خاص طور پر پاکستان کی فضائیہ کے جے-10C لڑاکا طیاروں کی جانب سے اس کا استعمال بھارت کے رافیل طیاروں کو گرانے کے لئے کیا گیا۔ یہ میزائل بھارت کی فضائیہ کے دفاعی نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کی فضائی حکمت عملی:
- پاکستان کی جانب سے PL-15 کا استعمال:
پاکستان نے J-10C لڑاکا طیاروں کے ذریعے بھارت کے رافیل طیاروں کو گرانے کی تصدیق کی ہے، تاہم استعمال ہونے والے گولہ بارود کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم، بھارت کے پنجاب ریاست کے ہوشیارپور علاقے میں PL-15 میزائل کے ٹکڑے ملنے کی رپورٹس نے چینی میزائل کے فعال جنگی استعمال کی پہلی تصدیق کی ہے۔ - بھارت کی فضائی حکمت عملی:
بھارت کی فضائیہ اپنے رافیل طیاروں کو میٹیور میزائلوں، سو-30MKIs کو R-77 میزائلوں اور S-400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز سے لیس کرتی ہے۔ PL-15 کی رینج پاکستان کے طیاروں کو بھارت کے دفاعی دائرہ سے باہر رہ کر حملہ کرنے کی اجازت دیتی ہے، جس سے پاکستانی فضائیہ کو ایک اہم حکمت عملی کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
چینی PL-15 میزائل کے فوائد:
- طویل رینج اور AESA گائیڈنس:
PL-15 میزائل کی طویل رینج اور جدید AESA (Active Electronically Scanned Array) رڈار گائیڈنس سسٹم اسے جنگی میدان میں ایک جدید ہتھیار بناتی ہے۔ یہ خصوصیات خاص طور پر پاکستان کے لئے فائدہ مند ہیں کیونکہ یہ بھارت کے دفاعی سسٹمز کے خلاف پہلی حملہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ - مقابلہ مغربی سسٹمز سے:
PL-15 کو مغربی دفاعی سسٹمز جیسے امریکی AIM-120D AMRAAM اور فرانس کے میٹیور میزائل کے مقابلے میں چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ میٹیور میزائل کے پاس ریم جیٹ کی مدد سے طویل فاصلے تک مستقل حرکت کی صلاحیت ہے، PL-15 کی زیادہ رینج اور AESA گائیڈنس اسے خاص طور پر پہلے حملے کی صورتحال میں ایک اسٹریٹجک فائدہ دیتی ہے۔
چینی PL-15E میزائل کی عالمی سطح پر اہمیت:
چینی PL-15E میزائل کے عالمی دفاعی منظرنامے میں استعمال سے چین کی جدید فوجی ٹیکنالوجی کے اثرات مزید بڑھیں گے۔ یہ میزائل چین کی برآمدات کے لئے ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے اور عالمی اسلحہ کی مارکیٹ میں اس کی موجودگی کو مزید مستحکم کرے گا۔ چینی میڈیا نے PL-15E کی برآمدی تیاریوں اور جدید پروڈکشن لائنز کی اہمیت پر زور دیا ہے، جو چین کی عالمی فوجی طاقت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
نتیجہ:
چینی PL-15 میزائل کا جنوبی ایشیا میں استعمال نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان دفاعی حکمت عملیوں کو تبدیل کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر چینی فوجی ٹیکنالوجی کے اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ بھارت کی فضائی دفاعی حکمت عملی کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی حکمت عملی میں چینی ہتھیاروں پر بڑھتا ہوا انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ٹیکنالوجی کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے۔

