پاکستان، بھارت کے سینیئر فوجی حکام کا ہاٹ لائن رابطہ آج متوقع – امریکی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد اگلے اقدامات پر غور
اسلام آباد/نئی دہلی – پاکستان اور بھارت کے سینیئر فوجی حکام پیر کو ایک اہم ہاٹ لائن رابطے میں بات چیت کریں گے تاکہ حالیہ امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے، جو کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر تقریباً تین دہائیوں کے شدید ترین گولہ باری کے بعد قائم ہوئی۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (DGMOs) صورتحال کا جائزہ لیں گے اور آئندہ کے اقدامات پر بات چیت کریں گے۔ بھارت نے اس مجوزہ رابطے کی تصدیق کی ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے تاحال باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
ہفتے کے روز پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا اعلان چار روزہ شدید فوجی جھڑپوں اور بھرپور سفارتی سرگرمیوں کے بعد سامنے آیا، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
اسلام آباد نے کشیدگی کم کرنے میں امریکہ کے کردار کو سراہا اور دیرینہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا، تاہم نئی دہلی نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا دو ٹوک مؤقف: جنگ بندی کی پیش کش بھارت نے کی، پاکستان نے نہیں — بھارتی پائلٹ کی حراست کی افواہیں بھی مسترد
اسلام آباد – ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک مشترکہ پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران جنگ بندی کی پیش کش پاکستان کی جانب سے نہیں کی گئی، بلکہ یہ قدم مکمل طور پر بھارت کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے گردش کرنے والی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔
ان کے ہمراہ پاکستان ایئر فورس کے ایئر وائس مارشل اورنگزیب اور پاکستان نیوی کے وائس ایڈمرل رب نواز بھی موجود تھے۔ بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی پائلٹ کی پاکستانی حراست سے متعلق افواہوں کی بھی سختی سے تردید کی۔
انہوں نے بحران کے دوران پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تیاریوں کو سراہا اور کہا کہ پاک فوج ہر ممکن صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

