دبئی، 10 مئی – ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ اگر امریکا کا مقصد ایران کو اس کے "جوہری حقوق” سے محروم کرنا ہے، تو تہران کبھی بھی ان حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
عراقچی نے یہ بیان دوحہ میں دیا، ایک ایسے وقت میں جب اتوار کو عمان میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک اور دور متوقع ہے۔
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق، عراقچی نے کہا: "اگر مذاکرات کا مقصد ایران کو اس کے جوہری حقوق سے محروم کرنا ہے، تو میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ ایران اپنے کسی بھی حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
ایران کئی بار یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ یورینیم کی افزودگی اس کا ناقابلِ تردید حق ہے اور اس نے امریکی حکام کی جانب سے پیش کردہ "زیرو افزودگی” کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ "کسی بھی معاہدے کے تحت ایران کی افزودگی کی تنصیبات کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا”۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ 2015 میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکا کو یکطرفہ طور پر الگ کر چکے ہیں، جس کے بعد انہوں نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر نیا معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو بمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام، جسے تہران نے 2015 کے معاہدے سے امریکی انخلا کے بعد تیز کر دیا ہے، دراصل ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس ایران مسلسل اصرار کرتا ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
عراقچی نے کہا، "امریکا کے ساتھ بالواسطہ بات چیت میں ایران پُرامن جوہری توانائی کے حق پر زور دیتا ہے اور واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔”
انہوں نے مزید کہا، "ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، اور اگر ان مذاکرات کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنا ہے تو معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم اگر ان کا مقصد ایران کے جوہری حقوق کو محدود کرنا ہے، تو ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔”

