دبئی، 11 مئی – ایران اور امریکا کے اعلیٰ مذاکرات کار اتوار کے روز تہران کے جوہری پروگرام پر اختلافات دور کرنے کے لیے مذاکرات کا چوتھا دور شروع کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب واشنگٹن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ مشرقِ وسطیٰ دورے سے قبل سخت موقف اپنا رہا ہے۔
اگرچہ تہران اور واشنگٹن دونوں اس دہائیوں پر محیط تنازع کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دینے کے دعوے کرتے رہے ہیں، تاہم کئی اہم معاملات پر گہرا اختلاف موجود ہے، جنہیں حل کیے بغیر نہ صرف نیا معاہدہ ممکن نہیں بلکہ مستقبل میں عسکری کارروائی کا خطرہ بھی برقرار رہے گا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی اسٹیو وٹکوف، اتوار کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں، عمانی ثالثوں کے ذریعے چوتھے مرحلے کے مذاکرات کریں گے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی قیادت کا سخت بیانیہ ایرانی حکام کے بقول بات چیت کے لیے سودمند نہیں۔
روانگی سے قبل ایرانی ریاستی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، "ایران کا موقف معروف اور اصولوں پر مبنی ہے… ہمیں امید ہے کہ اتوار کی ملاقات میں فیصلہ کن پیش رفت ممکن ہو گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی ماہرین کی ٹیم عمان میں موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر ان سے مشاورت کی جائے گی۔
دوسری جانب وٹکوف نے جمعرات کو بریٹبارٹ نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن کی سرخ لکیر ہے: "کسی قسم کی افزودگی نہیں، اس کا مطلب ہے مکمل خاتمہ، اور عدم اسلحہ کاری”، جس میں نطنز، فردو اور اصفہان میں موجود ایران کی جوہری تنصیبات کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
وٹکوف نے مزید کہا، "اگر اتوار کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوئے تو ہم انہیں جاری نہیں رکھیں گے اور متبادل راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔”
ٹرمپ، جنہوں نے سفارتکاری کی ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، 13 سے 16 مئی تک سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے۔
وٹکوف کے بیانات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ ایران اپنے جوہری حقوق، بشمول یورینیم کی افزودگی، پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق، تہران کچھ حدود کے ساتھ جوہری سرگرمیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ پابندیاں ختم کی جائیں، تاہم افزودگی کا مکمل خاتمہ یا پہلے سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرنا ان "سرخ لکیروں” میں شامل ہے جن پر ایران کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
مذاکراتی ٹیم سے وابستہ ایک سینئر ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ایران کی جوہری تنصیبات کے مکمل خاتمے اور افزودگی کے مکمل انکار پر مبنی امریکی مطالبات، مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مددگار نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے مزید کہا، "امریکا جو کچھ عوامی سطح پر کہتا ہے، وہ نجی مذاکرات سے مختلف ہوتا ہے۔” ان کے مطابق اتوار کے مذاکرات میں معاملات زیادہ واضح ہو جائیں گے، جنہیں ابتدائی طور پر 3 مئی کو روم میں منعقد کیا جانا تھا مگر عمان کی جانب سے "عملی وجوہات” کی بنا پر مؤخر کر دیا گیا تھا۔
مزید برآں، ایران نے واضح طور پر اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ مذہبی قیادت کا مطالبہ ہے کہ ٹرمپ دوبارہ کسی جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار نہ کریں—اس کے لیے مضبوط اور ناقابلِ تنسیخ ضمانتیں دی جائیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے فروری سے ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی بحال کر رکھی ہے، جب کہ وہ اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدہ ہو گئے تھے اور سخت پابندیاں دوبارہ عائد کر دی تھیں، جن سے ایرانی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔
ایران، جو طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا رہا ہے، نے 2019 سے معاہدے کی متعدد حدود کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں یورینیم کی افزودگی میں "نمایاں اضافہ” بھی شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے مطابق، ایران اب 60 فیصد تک افزودگی کر رہا ہے، جو ہتھیاروں کے درجے کی 90 فیصد سطح کے قریب ہے۔

