اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان کا جدید چینی ہتھیار بھارت کیلئے غیر متوقع ثابت ہوا

پاکستان کا جدید چینی ہتھیار بھارت کیلئے غیر متوقع ثابت ہوا
پ

"پاکستان نے اپنے ہتھیاروں اور تکنیکی صلاحیتوں سے بھارت کو حیران کر دیا ہو گا”
پروفیسر کلارک کا کہنا ہے کہ بظاہر ایک جے-10 نے ایک رافیل فائٹر کو مار گرایا ہے

برطانوی سیکیورٹی اور دفاعی تجزیہ کار پروفیسر مائیکل کلارک نے ہفتے کے روز کہا کہ ممکن ہے پاکستان نے اپنے عسکری ساز و سامان اور تکنیکی صلاحیتوں کے ذریعے بھارت کو حیران کر دیا ہو۔

اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کی عسکری جرات مندی کو ایک خطرہ مول لینے والی صلاحیت کے طور پر لے گا۔

پروفیسر کلارک کا کہنا تھا کہ "بھارتی شاید اس عسکری ساز و سامان پر حیران ہوئے ہوں جو پاکستان نے میدان میں اتارا، کیونکہ جیسا کہ اب ہم جان رہے ہیں، پاکستان نے چینی ساختہ ٹیکنالوجی کا خاصا استعمال کیا ہے، اور اس وقت توجہ جے-10 لڑاکا طیارے پر مرکوز ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر ایک جے-10 نے بھارتی فضائیہ کے فرانسیسی ساختہ رافیل فائٹر کو مار گرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلا شبہ، پاکستان نے HQ-9 طیارہ شکن میزائلوں کا بھی استعمال کیا ہے، جو بظاہر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

پروفیسر کلارک کے مطابق، "میرا خیال ہے کہ بھارتی اس بات پر حیران ہوئے ہوں گے کہ پاکستان نے چینی ساز و سامان کے ساتھ کس حد تک تکنیکی مہارت حاصل کر لی ہے۔ البتہ جنرل عاصم منیر کے جارحانہ رویے پر وہ حیران نہیں ہوئے ہوں گے، کیونکہ وہ اسے پہلے سے ہی توقع کر رہے تھے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا ردعمل جزوی طور پر اس بات کی کوشش تھا کہ کسی طرح جنرل منیر کو سبق سکھایا جائے کہ بھارت جوابی کاروائی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنی مغربی بحری بیڑے کے ایک کیریئر بیٹل گروپ کو تعینات کیا ہے۔

"یہ بحری گروپ کراچی کے ساحل سے صرف 300 میل کے فاصلے پر موجود ہے، جو ایک وسیع جنگ کی دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے — جب تک کہ پاکستان اس کشیدگی سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہ نکال لے۔ خوش قسمتی سے، بین الاقوامی برادری نے ایک ایسا راستہ فراہم کر دیا ہے جس پر دونوں فریق خود کو روک سکتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس پر بھرپور زور امریکی انتظامیہ — خاص طور پر صدر ٹرمپ کی حکومت اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو — نے دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مداخلت میں تاخیر کی، کیونکہ یہ کشیدگی منگل سے جاری تھی، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے بیانات نے اثر دکھایا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین