اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانوزیراعظم کا کراچی-چمن ایکسپریس وے جلد مکمل کرنے کا حکم

وزیراعظم کا کراچی-چمن ایکسپریس وے جلد مکمل کرنے کا حکم
و


امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا: شہباز شریف

اسلام آباد – وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کراچی تا چمن قومی شاہراہ (N-25) کو موٹروے کے معیار کی ایک اعلیٰ درجے کی ایکسپریس وے میں تبدیل کرنے کی ہدایت جاری کی۔

وزیراعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے 790 کلومیٹر طویل منصوبے کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق، یہ منصوبہ بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا:
"کراچی تا چمن شاہراہ کی اپ گریڈیشن محض ایک سڑک کا منصوبہ نہیں بلکہ بلوچستان کی خوشحالی کے لیے ایک تزویراتی ریڑھ کی ہڈی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کے بجائے اس رقم کو اس اہم منصوبے پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا، جسے تمام صوبوں کی حمایت حاصل ہے۔
"یہ قومی یکجہتی اور بلوچستان کی ترقی کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے،” انہوں نے کہا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل سے کراچی سے چمن تک سفر کا دورانیہ موجودہ 18 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 6 سے 8 گھنٹے رہ جائے گا، جس سے تجارت، ٹرانسپورٹ اور عوامی سہولت میں اضافہ ہو گا۔

اجلاس میں اعلیٰ معیار کی تعمیر، ماحولیاتی تحفظ، اور دو سال میں منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعظم نے منصوبے کی تکمیل کے بعد تھرڈ پارٹی ویری فکیشن کو بھی لازمی قرار دیا۔

مقامی ٹریفک میں آسانی اور بہتر رسائی کے لیے تمام بڑے شہروں کے گرد بائی پاسز کی تعمیر کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو ہدایت کی گئی کہ وہ بروقت زمین کے حصول کے لیے متعلقہ محکموں سے رابطہ یقینی بنائیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبہ چار رویہ، دوہری سڑک پر مشتمل ہوگا۔ ماضی میں مالی وسائل کی کمی کے باعث تاخیر ہوئی تھی، جسے نئے بجٹ کے ذریعے دور کر دیا گیا ہے۔ خضدار تا مستونگ سیکشن پر کام کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ کراچی تا خضدار کے درمیان پانچ حصوں کی منصوبہ بندی جاری ہے۔

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی ترقی پر توجہ دینے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، گورنر جعفر خان مندوخیل، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوئے۔

یو ایس-پاک بزنس کونسل

اسلام آباد – امریکی چیمبر آف کامرس اور یو ایس-پاکستان بزنس کونسل کے ایک وفد نے منگل کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یو ایس-پاک بزنس کونسل پاکستان اور امریکہ کے درمیان شراکت داری مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 80 سے زائد امریکی کمپنیوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور منافع بخش ملک ہے۔

وزیراعظم نے پاک امریکہ تاریخی اقتصادی و تزویراتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری باہمی مفاد پر مبنی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکہ سے روئی درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط بڑھا کر دونوں اقوام کے عوام کے لیے خوشحالی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور تاجروں کے ساتھ تعمیری شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مارکیٹ نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور حکومت سرمایہ کاروں کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت ون ونڈو سہولت فراہم کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے حکومتی اقتصادی کامیابیوں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ان کے اعتراف کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ریگولیٹری نظام کو آسان بنانے، شفافیت بڑھانے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ کاروبار کے لیے بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ٹیرف سے متعلق معاملات پر رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ اس کا باہمی مفاد پر مبنی حل جلد نکل آئے گا۔

امریکی وفد نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش ملک قرار دیا اور یہاں کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ظاہر کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین