اسلام آباد: ترکیہ نے پہلگام واقعے کے تناظر میں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور تمام فریقین پر تحمل اور ذمہ داری سے کام لینے پر زور دیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، ہفتہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں تعینات ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیراولو نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں قیامِ امن کے حوالے سے ان کے مؤقف اور پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا پاکستان سے اظہار یکجہتی دونوں ممالک کے مابین تاریخی، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو پہلگام حملے سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، اور نئی دہلی اب تک اس واقعے سے متعلق کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے بھارتی اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور انسداد دہشت گردی کی جدوجہد میں 90 ہزار جانوں اور 152 ارب ڈالر سے زائد کے معاشی نقصان کی قربانی دے چکا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کا رویہ دراصل پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام حملے کی شفاف، غیرجانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی ہے، جس کا بھارت نے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستان ایسی کسی بھی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا، اور اگر ترکیہ اس عمل میں شامل ہوتا ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان اس وقت اپنی معاشی بحالی اور ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کے لیے خطے میں امن و استحکام ناگزیر ہے۔
ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیراولو نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں مقامی سیاحوں پر حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر بلاجواز الزامات عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستانی سفارتی عملے کو 30 اپریل 2025 تک ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس کے علاوہ، بھارتی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے سمیت کئی جارحانہ اقدامات بھی اٹھائے۔
جوابی ردعمل کے طور پر، قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت سے تجارتی روابط منقطع کرنے، واہگہ بارڈر بند کرنے، بھارتی ایئرلائنز پر فضائی حدود کے استعمال پر پابندی اور بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کی ہدایت دینے جیسے فیصلے کیے ہیں۔

