ٹم کُک کا اعلان: ایپل کی سپلائی چین تیزی سے چین سے بھارت کی جانب منتقل، امریکی منڈی کے لیے تیار کردہ زیادہ تر آئی فونز اب بھارت میں اسمبل ہوں گے
نیویارک:
ٹیکنالوجی کی دنیا کی سرکردہ کمپنی ایپل انکارپوریٹڈ کو جمعے کے روز شدید دھچکا اس وقت لگا جب اس کے حصص کی قیمت میں پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کمپنی کی جانب سے اپنے اسٹاک بائی بیک پروگرام میں کمی کے اعلان اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی کے تناظر میں آئندہ سہ ماہی میں 90 کروڑ ڈالر کے ممکنہ مالیاتی اثرات کے انتباہ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا۔
کمپنی نے گزشتہ برس 110 ارب ڈالر مالیت کے بائی بیک پروگرام کا اعلان کیا تھا، تاہم رواں برس اسے کم کر کے 100 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔ سرمایہ کار حلقوں نے اس غیر متوقع اقدام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا ہے، کیونکہ ایپل روایتی طور پر یا تو بائی بیک میں اضافہ کرتا ہے یا اسے برقرار رکھتا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ معاشی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کے پیش نظر مالی وسائل کو محفوظ رکھنے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
CFRA ریسرچ سے وابستہ سینئر تجزیہ کار اینجلو زینو نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"ایپل کے لیے بائی بیک میں کمی ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ یہ مارکیٹ کے لیے ایک حیران کن پیغام ہے۔”
سی ای او ٹم کُک نے کمپنی کی حکمت عملی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایپل اپنی سپلائی چین کو چین سے باہر منتقل کرنے کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ ان کے مطابق اب امریکی صارفین کے لیے تیار کیے جانے والے بیشتر آئی فونز بھارت میں اسمبل ہو رہے ہیں، جب کہ آئی پیڈز، میک کمپیوٹرز اور ایئر پوڈز کی تیاری بھی بتدریج ویتنام اور بھارت منتقل کی جا رہی ہے۔
ٹم کُک نے واضح کیا کہ اگرچہ صارفین کے لیے الیکٹرانکس مصنوعات پر عائد ٹیرف میں عارضی چھوٹ سے کچھ سہولت میسر آئی ہے، تاہم اگر یہی ٹیرف برقرار رہا تو ایپل کو صرف ایک سہ ماہی میں 900 ملین ڈالر کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایپل نے مالی سال کی حالیہ سہ ماہی میں 95.36 ارب ڈالر کی آمدن اور 1.65 ڈالر فی شیئر منافع حاصل کیا، جو مارکیٹ توقعات سے بہتر تھا۔ تاہم اس کے باوجود 2025 کے آغاز سے اب تک کمپنی کے حصص کی قدر میں مجموعی طور پر 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ ’میگنیفیسنٹ سیون‘ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بدترین کارکردگی دکھانے والا دوسرا اسٹاک بن چکا ہے۔
کمپنی کی مالیاتی رپورٹ کے بعد معتبر مالیاتی اداروں جیفریز اور روزن بلیٹ نے ایپل کے شیئرز کی درجہ بندی میں کمی کر دی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک اور منفی اشارہ ہے۔
ٹم کُک نے اس موقع پر امریکہ میں کمپنی کی طویل المدتی سرمایہ کاری کی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایپل آئندہ چار برسوں میں امریکہ میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے ٹیکساس، ایریزونا اور اوریگن میں کمپنی کے آپریشنز میں وسعت کو بھی نمایاں کیا۔
چین میں ایپل کی آمدن 16 ارب ڈالر رہی، جو اندازوں سے کچھ بہتر تھی، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ہواوے جیسی مقامی کمپنیوں سے مسابقت کے باعث ایپل کو وہاں اپنی مارکیٹ شیئر کے تحفظ کے لیے مزید چیلنجز کا سامنا ہے۔

