وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر عید سے قبل 2 یا 3 جون کو متوقع
اسلام آباد:
حکومت اگلے مالی سال 2025-26 کے لیے 14.3 کھرب روپے سے زائد کا نیا ٹیکس ہدف مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے، جو رواں مالی سال کے نظر ثانی شدہ ہدف سے 2 کھرب روپے زیادہ ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے کم از کم 500 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات متوقع ہیں۔
وزارت خزانہ نے نئے ہدف کا تخمینہ لگانے کے بعد ایسے اقدامات کی فہرست تیار کرنا شروع کر دی ہے جن سے یہ ظاہر کیا جا سکے کہ 14.307 کھرب روپے کا ہدف حقیقت پسندانہ اور قابلِ حصول ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے ممکنہ طور پر اپنی دوسری بجٹ تقریر عید تعطیلات سے قبل، 2 یا 3 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
14.307 کھرب روپے کا مجوزہ ہدف آئندہ مالی سال کی متوقع جی ڈی پی کے 11 فیصد کے برابر ہے۔ ایف بی آر کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، اگرچہ یہ ہدف ملکی معیشت کے حجم سے مشروط ہے، لیکن جی ڈی پی کے 11 فیصد کا تناسب بنیادی معیار ہو گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت کی جانب سے کاروباری اداروں کو ان کی بجٹ تجاویز کی منظوری یا رد کے بارے میں آگاہ کرنے کی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے۔ حکومت نے جنوری میں مختلف تجارتی تنظیموں اور چیمبرز سے تجاویز طلب کی تھیں اور اپریل کے آخر تک جواب دینے کا وعدہ کیا تھا۔
جب رابطہ کیا گیا تو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ بجٹ تجاویز کا جائزہ جاری ہے کیونکہ تجاویز تاحال موصول ہو رہی ہیں۔
یہ مجوزہ ہدف آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے، جو 14 مئی سے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے تاکہ بجٹ کا جائزہ لے سکے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ نیا ہدف رواں مالی سال کے 12.3 کھرب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف سے 16 فیصد یعنی 2 کھرب روپے زیادہ ہے۔ یہ ہدف اس تخمینے سے بھی زیادہ ہے جو ایف بی آر نے وزیر خزانہ کو پیش کیا تھا۔
رواں مالی سال کے لیے حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 13 کھرب روپے (10.6 فیصد جی ڈی پی) کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم مہنگائی اور اقتصادی ترقی میں کمی کے باعث اسے کم کر کے 12.3 کھرب روپے پر لایا گیا، تاہم جی ڈی پی کا تناسب برقرار رہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو 500 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات لینے ہوں گے تاکہ نیا ہدف حقیقت پسندانہ لگے۔ یہ اقدامات ان 1.3 کھرب روپے کے علاوہ ہوں گے جو اس سال عوام، بالخصوص تنخواہ دار طبقے پر لگائے گئے تھے۔
ٹیکس وصولی میں 830 ارب روپے کی کمی کے باوجود ایف بی آر کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ معیشت میں ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت مزید تنگ ہو چکی ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے پٹرولیم لیوی میں 18 روپے اضافہ کر کے اسے 78 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین رشید لنگڑیال نے بدھ کو اعتراف کیا کہ اگلے سال کا بجٹ ٹیکس اہداف کے حوالے سے سخت ہو گا۔
اوورسیز چیمبر کی بجٹ تجاویز
ادھر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) سے بجٹ تجاویز پر ملاقات کی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میں سے کون سی تجاویز منظور ہوں گی۔
OICCI نے حکومت کو 5000 روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے کی تجویز دی تاکہ کیش اکانومی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ملک کی غیر رسمی معیشت کا حجم باضابطہ معیشت کے کم از کم 40 فیصد کے برابر بتایا جاتا ہے، مگر حکومت سنجیدہ کارروائی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
چیمبر نے کیمیکل ڈیلرز کو سپلائی پر عائد 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ، 10 ملین روپے یا اس سے زائد آمدن پر فائلرز پر عائد 10 فیصد سرچارج کے خاتمے، اور تنخواہ دار طبقے کو 100,000 روپے ماہانہ تک آمدن پر ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی دی۔
تنخواہ دار طبقے نے دس ماہ میں 391 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جو کل انکم ٹیکس کا 10 فیصد بنتا ہے، جبکہ بعض بڑے تاجروں کی جانب سے صرف 0.6 فیصد دیا گیا۔
OICCI نے 600,000 سے 1.2 ملین سالانہ آمدن رکھنے والوں پر صرف 1,000 روپے ٹوکن ٹیکس لگانے اور ہاؤسنگ، تعلیم و علاج کی مد میں ٹیکس کریڈٹ فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔
پراویڈنٹ فنڈ میں کمپنی کے تعاون پر ٹیکس کو 10 فیصد تک محدود کرنے اور 150,000 روپے کی حد ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
چیمبر نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی ملازمین کو وطن واپسی پر غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی بھی سفارش کی ہے۔
مزید برآں، کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار 29 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد تک لانے، سپر ٹیکس کو تین سال میں ختم کرنے، ڈیویڈنڈ پر 15 فیصد انکم ٹیکس کو ختم کرنے، اور سیلز ٹیکس کو 17 فیصد تک لانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
OICCI نے پٹرولیم مصنوعات پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دینے اور پیک شدہ دودھ پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی سفارش کی تاکہ غذائیت اور دستیابی میں بہتری آئے۔
ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیمز کے تحت مقامی سپلائیز پر زیرو ریٹنگ کی بحالی اور ایریٹیڈ واٹر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 18 فیصد اور جوسز پر 15 فیصد تک لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے، تاہم حکومت ان میں سے بیشتر تجاویز پر آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث تذبذب کا شکار ہے۔

