کراچی – پہلگام حملے کے بعد بھارتی ٹی وی چینلز پر جاری قومی جنون اور سنسنی خیزی کی لہر نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں خبریں کم اور تھیٹر زیادہ دکھایا جا رہا ہے۔ ایک بھارتی ٹی وی رپورٹر کے درخت کے تنے کے اندر جھانکنے اور اُسے "دہشت گردوں کی قدرتی پناہ گاہ” قرار دینے کا منظر اس رجحان کی واضح علامت ہے۔
واقعے کے بعد بھارتی میڈیا میں غیر مصدقہ دعووں، ایڈیٹ شدہ مناظر، اور اشتعال انگیز مباحثوں کا سیلاب آیا ہے۔ ہر چینل ایک دوسرے سے بڑھ کر سنسنی خیزی پھیلانے کی دوڑ میں شامل ہے۔
ایسے میں سی این این-نیوز 18 پر ایک اہم انٹرویو نشر کیا گیا، جس میں چین کے سینٹر فار گلوبلائزیشن کے نائب صدر اور سابق چینی حکومتی مشیر ڈاکٹر وکٹر گاؤ سے بات کی گئی۔ پاہلگام حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے گاؤ نے بھارت اور پاکستان دونوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی، لیکن ان کے پاکستان کے حق میں بار بار کیے جانے والے بیانات نے میزبان کو واضح طور پر پریشان کر دیا۔
انہوں نے کہا: "چین اور پاکستان آہنی رشتہ رکھنے والے، ہر موسم کے ساتھی ہیں۔۔۔ چین ہمیشہ پاکستان کی مدد کو آئے گا”۔ پینل میں موجود ایک اور مبصر، برہما چیلانے، نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان میں ہزاروں چینی فوجی تعینات ہیں اور چین-پاکستان اتحاد کو "دو نیوکلیئر ریویژنسٹ طاقتوں” کا خطرہ قرار دیا۔ اس پر گاؤ نے جواب دیا: "پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں چین کے عزم کو کبھی کم نہ سمجھا جائے”۔
اسی دوران ریپبلک ٹی وی نے حسبِ روایت اشتعال انگیز کوریج کو مزید تیز کر دیا۔ ان کے پینل نے چین، پاکستان اور ترکی کے ایک ممکنہ اتحاد پر قیاس آرائیاں کیں، جبکہ سابق سفارتکار دیپک ووہرا نے دعویٰ کیا کہ ترکی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے، اور چین پاکستان کو علاقائی مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے بغیر کسی تصدیق کے یہ دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے لائن آف کنٹرول کے قریب شہریوں کو دو ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اے بی پی نیوز نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی فوجیوں سے ملاقات کی فوٹیج کو بار بار چلایا اور پاکستان کی مبینہ گھبراہٹ کا بیانیہ اختیار کیا۔
انڈیا ٹی وی نے تو مبالغہ آرائی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ چینل نے دعویٰ کیا کہ حماس کے جنگجو پاکستان پہنچ چکے ہیں اور بہاولپور کی مبینہ فوٹیج نشر کی جس میں موٹر سائیکلوں پر سوار نقاب پوش افراد دکھائے گئے۔ ایک پینل ڈسکشن میں پاکستانی میم کو سرکاری مؤقف سمجھ کر سنجیدگی سے زیر بحث لایا گیا۔
زی نیوز نے پاہلگام حملے سے برآمد شدہ اسلحے کی تصاویر نشر کیں، جو بعد ازاں ایک تربیتی مشق کی جعلی اشیاء ثابت ہوئیں۔ چینلز نے حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے اعترافات کی ویڈیوز چلائیں، جو بعد میں مکمل طور پر غلط ثابت ہوئیں۔
فیک نیوز واچ ڈاگ (FNW) کی تازہ رپورٹ "پاہلگام واقعہ 2025 رپورٹ” کے مطابق، بھارتی میڈیا میں پاہلگام حملے کے بعد غلط معلومات کا سیلاب آیا ہے۔ رپورٹ میں ان متعدد ویڈیوز کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے جنہیں پاکستان سے دہشت گردوں کے داخلے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کو بغیر سرکاری تصدیق کے شدت پسند گروہوں کے نام لینے اور جعلی بیانات نشر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید یہ کہ بھارتی چینلز نے قیاس آرائی کی کہ بھارت پاکستان کو اقتصادی طور پر سزا دینے کے لیے ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف سے رجوع کر سکتا ہے، حالانکہ اس کی کوئی مصدقہ بنیاد موجود نہیں۔

