نئی دہلی – مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر مہلک حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے تناظر میں، بھارت نے پاکستان سے درآمدات اور ٹرانزٹ کے ذریعے آنے والی اشیاء پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کی جانب سے 2 مئی کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ "قومی سلامتی اور عوامی مفاد” کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، 2023 کی نئی فارن ٹریڈ پالیسی (ایف ٹی پی) میں ایک شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت پاکستان سے براہ راست یا بالواسطہ تمام درآمدات اور ٹرانزٹ اشیاء پر تا حکمِ ثانی پابندی عائد کی گئی ہے۔
جوابی اقدام کے طور پر پاکستان نے بھی بھارت سے درآمدات روک دی ہیں۔
گزشتہ ہفتے کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسے بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق "قابلِ اعتماد خفیہ اطلاعات” موصول ہوئی ہیں۔
حملے کے بعد بھارت نے دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی بھی دی، جس پر پاکستان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پانی کے بہاؤ کو روکا گیا تو اسے اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان نے جوابی اقدامات کے طور پر نہ صرف سرحدی تجارت بند کر دی ہے بلکہ بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہے اور بھارتی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاک بھارت تجارت میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے، اور موجودہ کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید متاثر کیا ہے۔
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھی حالات کشیدہ ہو چکے ہیں، جہاں دونوں اطراف سے فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے فریقین سے ’’زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ کشیدگی صرف سرحدی سطح تک محدود نہیں رہی۔ بھارت میں کشمیریوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد کئی علاقوں میں کشمیریوں نے شمع بردار تقریبات، احتجاجی مارچ اور یومِ سوگ منایا، جبکہ اخبارات نے سیاہ سرخیاں شائع کیں۔
ادھر بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف بھی ہجوم کے ہاتھوں پرتشدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، جنہیں اس حملے سے جوڑ کر تعصبانہ بیانیہ اپنایا جا رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی فوری طور پر کم نہ کی گئی تو دونوں جوہری ممالک کے درمیان وسیع تر جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

