اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا نیا حکم، سمندری ماحولیاتی نظام خطرے میں

ٹرمپ کا نیا حکم، سمندری ماحولیاتی نظام خطرے میں
ٹ

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر ماحولیاتی ماہرین اور تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے، جس کے تحت گہرے سمندروں میں معدنیات کی تلاش کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سمندری ماحولیاتی نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے اور بین الاقوامی ضوابط کو نظرانداز کرتا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں چین کی ان اہم معدنیات—نِکل، کوبالٹ اور مینگنیز—پر برتری پر تشویش پائی جاتی ہے، جو کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی اور عسکری صنعتوں میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

ٹرمپ نے جمعرات کو جاری کردہ حکم نامے میں امریکہ کو "قومی اور بین الاقوامی پانیوں میں سمندری معدنیات کی تلاش اور ترقی میں عالمی رہنما” بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جب کہ چین نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے کر شدید مذمت کی ہے۔

کینیڈین کمپنی کی امریکی معاونت سے کھدائی کی تیاری

کینیڈا میں قائم دی میٹلز کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی امریکی ذیلی کمپنی کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں میں معدنی کھدائی کی اجازت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے سربراہ جیرارڈ بیرون نے کہا کہ ان کی کمپنی "ریاستوں، شراکت داروں، سرمایہ کاروں اور کرۂ ارض کے مفاد میں” کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

30 سے زائد ممالک کی جانب سے پابندی کا مطالبہ

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یہ سرگرمی ماہی گیری کے نظام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور سمندری پانی کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے—جو کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک اہم قدرتی رکاوٹ ہے۔

30 سے زائد ممالک، ماہی گیری سے وابستہ ادارے، ماحولیاتی تنظیمیں، اور بعض آٹو و ٹیکنالوجی کمپنیاں گہرے سمندری کھدائی پر مکمل پابندی (moratorium) کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اوشن کنزرویَنسی کے نائب صدر جیف واٹرز کا کہنا تھا: "سائنس دان متفق ہیں کہ گہرے سمندر کی کھدائی سمندر اور اس پر انحصار کرنے والے تمام جانداروں کے لیے انتہائی خطرناک عمل ہے۔”

بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈالنے کا خطرناک رجحان

واٹرز نے خبردار کیا کہ امریکہ کا یہ رویہ دیگر ممالک کو بھی ایسے اقدامات کی ترغیب دے سکتا ہے، جس سے ماہی گیری، بحری جہاز رانی، نیویگیشن، اور سمندری تحقیق سے متعلق عالمی معاہدے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ڈیپ سی کنزرویشن کولیشن کے قانونی مشیر ڈنکن کری نے خبردار کیا کہ یہ فیصلہ دور رس قانونی اور ماحولیاتی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ بمقابلہ توانائی کے تقاضے

ٹی ڈی آئی سسٹین ایبلیٹی کے سی ای او اشیٹن کارٹر کے مطابق، دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ہم ماحول کی قیمت پر کم کاربن ٹیکنالوجی کے لیے ان معدنیات کو حاصل کرنا گوارا کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کے بقول، "ہمیں ماحولیاتی تبدیلی جیسے سنجیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے کٹھن فیصلے اور بعض تکلیف دہ سمجھوتے کرنے ہوں گے۔”

سمندری تباہی کی رفتار میں اضافہ؟

ماحولیاتی تنظیم اوشیانا کی چیف سائنٹسٹ کیٹی میتھیوز نے ٹرمپ کے اقدام کو "خالص لالچ پر مبنی اور عقل و دانش کے منافی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر بغیر مناسب حفاظتی اقدامات کے اس عمل کو تیز کیا گیا، تو یہ ہمارے سمندروں کی تباہی کی رفتار کو مزید بڑھا دے گا۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین