مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں جنگلاتی آگ بھڑک اٹھنے کے بعد متعدد غیر قانونی صیہونی بستیوں سے انخلاء کا حکم دے دیا گیا ہے، جب کہ صیہونی حکام نے صورتِ حال کو "قومی ایمرجنسی” قرار دے دیا ہے۔ شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے، اور ممکنہ آتش زنی کی اطلاعات پر تحقیقات جاری ہیں۔
صیہونی وزیرِ سلامتی ایسرائل کاٹز نے بدھ کو ایک بیان میں کہا: "ہم قومی ایمرجنسی کا سامنا کر رہے ہیں، اور تمام دستیاب وسائل کو متحرک کیا جانا چاہیے تاکہ جانیں بچائی جا سکیں اور آگ پر قابو پایا جا سکے۔”
آگ کے باعث مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب کو ملانے والی مرکزی شاہراہ بند کر دی گئی، جب کہ لطْرون اور بیت شیمش کے علاقوں میں دھواں اس قدر گہرا تھا کہ ڈرائیور گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہونے لگے۔ کئی علاقوں میں شہریوں میں شدید خوف و ہراس دیکھا گیا۔
صیہونی فائر سروس کے سربراہ ایال کاسپی کے مطابق، "ہم گزشتہ ایک دہائی کی سب سے بڑی آگ کا سامنا کر رہے ہیں۔” خراب موسمی حالات کے باعث فضائی امداد معطل کر دی گئی، اور زمینی سطح پر امدادی کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
معاشی نقصانات
عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے ابتدائی اندازے کے مطابق، آتشزدگی کے بعد بحالی کا خرچ کروڑوں شیکل تک پہنچ سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ نقصانات ایک ارب شیکل سے تجاوز کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، نقصانات کی تلافی کون کرے گا—ریاست یا انشورنس کمپنیاں—اس کا انحصار آگ کی تحقیقات پر ہوگا۔ تاہم، ریاستی اداروں کو بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، جنگلات اور غیر بیمہ شدہ افراد کی امداد کے لیے فنڈز فراہم کرنے ہوں گے۔
آتش زنی کا شبہ
صیہونی وزیرِ پولیس اِتمار بن گویر نے دعویٰ کیا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہو سکتی ہے۔ پولیس نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے ایک باشندے کو گرفتار کیا ہے جو شہر کے جنوبی حصے میں کھیت کو آگ لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگرچہ مرکزی آگ سے اس کا براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، بن گویر نے اسے "آتش زنی پر مبنی دہشت گردی” قرار دیا۔
بن گویر نے "یومِ آزادی” کی تقریبات بھی منسوخ کر دیں تاکہ فائر بریگیڈ کے وسائل متاثرہ علاقوں کی جانب منتقل کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، متعدد مقامات پر ایمبولینسیں اور موٹر سائیکل ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ ٹریفک میں پھنسے شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
حکومتی اداروں پر تنقید
صیہونی چینل 12 نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ نے فوج کی جانب سے دی گئی ممکنہ آتشزدگی کی وارننگز کو نظر انداز کیا، جسے "ایک بڑی ناکامی” قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی دوران، بن گویر پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹروں کی خریداری میں رکاوٹ ڈالی، جو اس آگ پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔
غیر ملکی امداد طلب
وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یونان، قبرص، کروشیا، اٹلی اور بلغاریہ سمیت متعدد ممالک سے آگ بجھانے کے لیے مدد مانگی گئی ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ اٹلی اور کروشیا سے تین فائر فائٹنگ طیارے روانہ ہو چکے ہیں۔
آتشزدگی کا بنیادی سبب؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی حکومت کی جانب سے یورپی پائن کے درختوں کی بڑے پیمانے پر شجرکاری، جو کہ فلسطین کے قدرتی ماحولیاتی نظام کا حصہ نہیں، آگ کے پھیلاؤ کا ایک بڑا سبب ہے۔ یہ درخت تیزی سے بڑھتے ہیں اور ان کی لکڑی اور سوئیاں آسانی سے شعلہ پکڑتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث خشک سالی اور ہیٹ ویوز میں اضافہ، ان درختوں کو "بارود کا ڈھیر” بنا چکا ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ قریبی آبادیوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔

