چین کی برقی مقناطیسی طاقتوں اور عالمی سطح پر اثرات کا تجزیہ طلب، دفاعی اور اقتصادی پہلوؤں پر توجہ
واشنگٹن: امریکہ-چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن نے چین کی برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum) کے وسائل کے عسکری، تکنیکی، اور عالمی اقتصادی استعمال سے متعلق ایک تفصیلی غیر خفیہ رپورٹ کی تیاری کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔
پینل کی جانب سے پیر کو جاری کردہ دستاویز کے مطابق کمیشن نے "چین کے برقی مقناطیسی طیف کے وسائل کا نظم و نسق” کے عنوان سے ایک جامع رپورٹ کے لیے پروپوزل جمع کروانے کی دعوت دی ہے۔ اس رپورٹ میں چین کے فوجی استعمال، تکنیکی اطلاقات، اور عالمی و تجارتی اثرات پر روشنی ڈالنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی حکمت عملی پر توجہ
برقی مقناطیسی طیف میں ریڈیو ویوز، مائیکروویوز، انفراریڈ، الٹراوائلٹ اور ایکس ریز شامل ہیں، جو جدید دفاع میں ابلاغ، نگرانی، اور جاسوسی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ کمیشن اس جائزے میں یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ چین ان ذرائع کو جنگی ٹیکنالوجی میں کس حد تک شامل کر رہا ہے اور ان کے ذریعے حملہ آور یا دفاعی اقدامات کیسے ممکن بنائے جا رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، رپورٹ میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ چین اپنے مخالفین کی ان صلاحیتوں کو کس طرح کمزور کر سکتا ہے، جو عالمی سطح پر برقی مقناطیسی طیف سے متعلق دفاعی حکمت عملیوں کے ضمن میں ایک ابھرتا ہوا خدشہ ہے۔
عالمی و اقتصادی اثرات کا بھی احاطہ کیا جائے گا
کمیشن اس رپورٹ کے ذریعے صرف عسکری پہلوؤں ہی نہیں بلکہ چین کی برقی مقناطیسی طیف سے متعلق حکمت عملی کے عالمی اثرات، تجارتی برتری، اور اقتصادی فوائد کا بھی تجزیہ کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ کے لیے پروپوزل جمع کروانے کی آخری تاریخ 19 مئی مقرر کی گئی ہے۔
جوہری توانائی میں بھی چین سب سے آگے
دوسری جانب، چین نے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر جوہری توانائی کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں سبقت حاصل کر لی ہے۔ چین نیوکلیئر انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق اس وقت ملک میں 102 جوہری بجلی گھر فعال، زیر تعمیر یا منظوری یافتہ ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 1.13 کروڑ کلو واٹ ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین میں اس وقت 28 جوہری یونٹس زیر تعمیر ہیں، جن کی پیداواری صلاحیت 3.365 کروڑ کلو واٹ ہے، اور یوں چین گزشتہ 18 برسوں سے جوہری تعمیراتی صلاحیت میں دنیا میں سرفہرست ہے۔ فی الوقت چین 58 تجارتی جوہری یونٹس چلا رہا ہے جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 6.096 کروڑ کلو واٹ ہے، اور جوہری توانائی کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

