امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو حکم دیا ہے کہ وہ ایپ اسٹور سے باہر کی خریداریوں (آف ایپ پرچیزز) پر عائد 27 فیصد کمیشن ختم کرے۔ یہ فیصلہ ایپل اور ایپک گیمز کے درمیان جاری قانونی جنگ میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
بدھ کے روز جاری کیے گئے فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ ایپل ان خریداریوں پر کمیشن نہیں لے سکتا جن میں صارفین کو ایپ کے ذریعے ایپ اسٹور سے باہر کسی اور پلیٹ فارم پر ادائیگی کی ہدایت دی جاتی ہے۔
جج یووون گونزالیز راجرز نے اپنے سخت الفاظ میں ایپل کے سابقہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے طریقے کو "ایک واضح پردہ پوشی” قرار دیا اور اس معاملے کو ممکنہ مجرمانہ توہین عدالت کے لیے وفاقی پراسیکیوٹرز کے سپرد کر دیا۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل کو قانونی طور پر سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ قانونی تنازع ایپک گیمز اور ایپل کے درمیان اس وقت شروع ہوا جب ایپک نے ایپل کی ایپ اسٹور پالیسیوں اور آمدنی کے سخت کنٹرول کو چیلنج کیا۔ ابتدائی فیصلے میں عدالت نے اگرچہ زیادہ تر معاملات میں ایپل کے حق میں فیصلہ دیا، تاہم ساتھ ہی ایپ ڈیولپرز کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ صارفین کو ایپ اسٹور کے باہر متبادل ادائیگی کے ذرائع کی طرف لے جا سکیں۔
اپیل میں شکست کے بعد ایپل نے اپنی پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے بیرونی خریداری کی اجازت تو دے دی، لیکن اس پر 27 فیصد نیا کمیشن نافذ کر دیا۔ جج نے تازہ ترین فیصلے میں ایپل کی اس چال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کی جانب سے ایپ مارکیٹ میں آزادی پیدا کرنے کے مقصد کے منافی ہے۔
ایپ اسٹور کی معیشت پر ممکنہ اثرات
ایپل کا ایپ اسٹور ہر سال اربوں ڈالر کی آمدنی صرف ان ایپ پرچیزز سے حاصل کرتا ہے جن پر کمیشن لاگو ہوتا ہے۔ تازہ ترین عدالتی حکم اس آمدنی کے اہم ذریعے کو متاثر کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ زیادہ ڈیولپرز صارفین کو ایپ اسٹور سے باہر سستی ادائیگی کے طریقوں کی طرف راغب کریں۔
اگرچہ آف ایپ پرچیزز صارفین کے لیے کم سہولت بخش ہو سکتی ہیں، لیکن یہ نہ صرف ڈیولپرز بلکہ صارفین کے لیے بھی کم لاگت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب، ایپل نے اپنے کمیشن اسٹرکچر کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایپ اسٹور کی آمدنی آپریٹنگ اخراجات اور صارفین کے لیے ایک محفوظ اور جانچی پرکھی ہوئی پلیٹ فارم کو ممکن بناتی ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا: "ہم اس فیصلے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم عدالت کے حکم پر عمل کریں گے اور اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔”
یہ قانونی جنگ مستقبل میں موبائل ایپ کی تقسیم کے طریقہ کار اور ایپ پلیٹ فارمز کے ضوابط کو یکسر بدلنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

