ایک نئی بین الاقوامی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ انتہائی پراسیس شدہ خوراک (Ultra-Processed Foods – UPF) کا زیادہ استعمال انسان کو وقت سے پہلے موت کے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔ برازیل کی اوسوالدو کروز فاؤنڈیشن کی زیر قیادت یہ تحقیق امریکی جریدے امریکن جرنل آف پریوینٹیو میڈیسن میں شائع ہوئی، جس میں آٹھ ممالک، بشمول امریکہ، برطانیہ، اور برازیل، کے غذائی اور اموات سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق UPF کے استعمال میں ہر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 75 برس کی عمر سے پہلے موت کا خطرہ 3 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ یہ خوراکیں جیسے پیک شدہ ڈبل روٹی، کیک اور ریڈی میڈ کھانے، بعض ممالک میں ہر سات میں سے ایک وقت سے پہلے موت سے جُڑی ہوئی ہیں۔
تحقیق کے مرکزی محقق ایڈوارڈو اگوسٹو فرنانڈس نیلسن کا کہنا ہے کہ ان خوراکوں کے نقصان دہ اثرات ان کے صنعتی عمل کے باعث ہوتے ہیں، جن میں چکنائی، نمک، چینی، اور مصنوعی اجزاء جیسے مٹھاس بڑھانے والے، خوشبو دار کیمیکل اور ایمولسیفائرز شامل ہوتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ UPF سے منسلک اموات کی شرح مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ برطانیہ میں یہ شرح سب سے زیادہ یعنی 13.8 فیصد ہے، اس کے بعد امریکہ میں 13.7 فیصد اور کینیڈا میں 10.9 فیصد۔ اس کے برعکس، کولمبیا میں یہ شرح 4 فیصد، برازیل میں 5 فیصد اور چلی میں 6 فیصد رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کا تعلق براہِ راست ان خوراکوں سے حاصل ہونے والی توانائی کی مقدار سے ہے۔ برطانیہ میں اوسطاً 53.4 فیصد خوراکی توانائی UPF سے حاصل کی جاتی ہے، جبکہ امریکہ میں یہ شرح 54.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ فی الحال زیادہ آمدنی والے ممالک اس بحران کا زیادہ سامنا کر رہے ہیں، تاہم ترقی پذیر ممالک میں بھی UPF کے بڑھتے استعمال سے صحت کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں مارکیٹنگ پر پابندیاں، بہتر لیبلنگ، اور متبادل صحت مند غذا کی ترویج شامل ہے۔
اگرچہ تحقیق میں براہِ راست علت و معلول (cause-effect) کا تعلق ثابت نہیں ہوا، لیکن یہ نتائج اس بڑھتے ہوئے سائنسی مواد کا حصہ ہیں جو UPF کو کینسر، قلبی امراض اور وقت سے پہلے موت سے جوڑتے ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ صحت کے ترجمان نے بیان میں کہا ہے کہ حکومت بچوں کے لیے غیر صحت بخش خوراک کی تشہیر محدود کرنے، اسکولوں کے قریب فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹس پر قابو پانے اور مزید تحقیق کے ذریعے UPF کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

