اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ میں شدید غذائی قلت کے باعث کم از کم 65 ہزار...

غزہ میں شدید غذائی قلت کے باعث کم از کم 65 ہزار بچے اسپتال میں داخل
غ

غزہ کی سرکاری میڈیا آفس (GMO) نے پیر کے روز "اسرائیل” پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فلسطینی بچوں کو بھوک اور قحط کے ذریعے منظم انداز میں نشانہ بنا رہا ہے۔ دفتر کا کہنا ہے کہ جاری ناکہ بندی کے باعث 11 لاکھ بچوں میں سے کم از کم 65 ہزار شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکے ہیں اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا، "اسرائیل بھوک اور محرومی کو شہری آبادی کے خلاف ایک منظم جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔” غزہ کی ناکہ بندی اور بند سرحدی راستوں کو بچوں اور شیر خواروں کی صحت پر تباہ کن اثرات کا باعث قرار دیا گیا۔

فلسطینی حکام نے اس بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال کی مکمل ذمہ داری "اسرائیل” پر عائد کی ہے اور عالمی برادری و اداروں پر شدید تنقید کی ہے کہ وہ "اسرائیل” کی مسلسل اور وحشیانہ خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

غزہ میڈیا آفس نے بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے "اسرائیلی جنگی مجرموں” کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ "نسل کشی کے لیے بھوک اور محرومی کا استعمال ایک ناقابل معافی جرم ہے۔”

دفتر نے تمام سرحدی راستے کھولنے، انسانی امداد، خوراک، طبی سامان اور بچوں و مریضوں کے لیے ادویات کی فوری رسائی کو ناگزیر قرار دیا۔

محاصرہ: اجتماعی سزا کا تسلسل

2 مارچ 2025 کو "اسرائیل” نے غزہ کی پٹی پر مکمل ناکہ بندی عائد کی، جس کے تحت رفح، بیت حانون، اور کرم ابو سالم جیسے اہم راستے بند کر دیے گئے۔ یہ اقدام سیزفائر کے پہلے مرحلے کے خاتمے کے بعد اٹھایا گیا، جس کا مقصد حماس پر نیا معاہدہ قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

اس ناکہ بندی نے خوراک، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت پیدا کر دی، جس سے انسانی بحران میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (WFP) کے مطابق، غزہ میں خوراک کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور گرم کھانوں کے کچن بھی چند دن میں بند ہو جائیں گے۔

غزہ کی آبادی کا تقریباً 80 فیصد انسانی امداد پر انحصار کرتا ہے، جبکہ مقامی بازاروں میں اشیائے ضروریہ یا تو دستیاب نہیں یا انتہائی مہنگی ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ نے مارچ 2025 میں رپورٹ کیا کہ 3,700 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جو پچھلے مہینے کے مقابلے میں 80 فیصد اضافہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ناکہ بندی کو ممکنہ "جنگی جرم” قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف میں سماعت کا آغاز

بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) پیر سے "اسرائیل” کی انسانی ذمہ داریوں پر ایک ہفتے کی سماعت کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ سماعتیں ہیگ میں ہوں گی، جن کا آغاز فلسطینی فریق کی پیشکش سے ہو گا، جس کے بعد 38 ممالک بشمول امریکہ، چین، روس، فرانس، اور سعودی عرب نیز عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور افریقی یونین کے نمائندے دلائل دیں گے۔

یہ کارروائی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کے بعد ہو رہی ہے جس میں ICJ سے "اسرائیلی قبضے کے قانونی نتائج” پر مشورہ طلب کیا گیا تھا، بالخصوص انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق "اسرائیل” کی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مارچ 2 سے جاری مکمل ناکہ بندی نے غزہ کے 24 لاکھ باشندوں کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین