اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیادانی گروپ نے اسرائیلی سیمی کنڈکٹر کمپنی کے ساتھ 10 ارب ڈالر...

ادانی گروپ نے اسرائیلی سیمی کنڈکٹر کمپنی کے ساتھ 10 ارب ڈالر کا معاہدہ معطل کر دیا
ا

بھارتی ارب پتی گوتم ادانی کے ادانی انٹرپرائزز گروپ اور اسرائیلی کمپنی ٹاور سیمی کنڈکٹر کے درمیان 10 ارب ڈالر مالیت کے سیمی کنڈکٹر منصوبے پر بات چیت روک دی گئی ہے، جس سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’میک ان انڈیا‘‘ پروگرام کے تحت سیمی کنڈکٹرز کی مقامی تیاری کی کوششوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ منصوبہ بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹرا میں ایک جدید ویفر فیبریکیشن پلانٹ قائم کرنے کے لیے ستمبر 2024 میں اعلان کردہ تھا، جس کے تحت ماہانہ 80,000 ویفرز کی پیداوار اور 5,000 ملازمتوں کی توقع کی جا رہی تھی۔ تاہم، اندرونی جائزے کے بعد ادانی گروپ نے معاہدے کو اس بنیاد پر معطل کر دیا کہ منصوبہ تجارتی اور تزویراتی طور پر سودمند نہیں۔

ادانی گروپ سے منسلک ایک ذریعے کے مطابق، "یہ ایک اسٹریٹجک فیصلہ تھا۔ گروپ نے جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ فی الحال انتظار بہتر ہے۔” دیگر ذرائع نے بتایا کہ ادانی گروپ ٹاور سیمی کنڈکٹر کی جانب سے مالی شراکت کی سطح سے مطمئن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ادانی چاہتا تھا کہ ٹاور بھی منصوبے میں بھرپور سرمایہ لگائے۔”

ٹاور سیمی کنڈکٹر، جو اینالاگ سیمی کنڈکٹرز میں مہارت رکھتی ہے، دنیا کے مختلف ممالک بشمول اسرائیل، امریکا، جاپان اور اٹلی میں فیکٹریاں چلاتی ہے۔ اس کے پلیٹ فارمز کو آٹوموٹیو، میڈیکل، دفاع اور صنعتی شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ادھر بھارت کے ’’سیمی کان انڈیا‘‘ پروگرام کے تحت حکومت نے 76,000 کروڑ روپے (تقریباً 10 ارب ڈالر) مختص کیے ہیں تاکہ ملک میں سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا سکے۔ SEMI IESA کے صدر اشوک چندک کے مطابق، اب تک مقامی و عالمی کمپنیوں کی جانب سے 20 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا جا چکا ہے۔

تاہم، چندک نے حالیہ بیان میں خبردار کیا کہ چین کی جانب سے نایاب ارضی عناصر کی برآمدات پر پابندیوں سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں۔ انہوں نے روس-یوکرین جنگ کے دوران نیون گیس کی سپلائی متاثر ہونے کی مثال دی، جہاں متبادل ذرائع سے بحران پر قابو پایا گیا تھا۔

رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ SEMI اور IESA کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری ’’آتم نربھر بھارت‘‘ (خود کفیل بھارت) کے وژن سے ہم آہنگ ہے، باوجود اس کے کہ عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر صنعت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔

بھارتی حکمتِ عملی کو حقیقت کا سامنا

ادانی گروپ کی جانب سے معاہدے کی معطلی بھارت کی ٹیکنالوجی صنعت میں بنیادی مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔ بھارت میں تاحال کوئی فعال سیمی کنڈکٹر فیبریکیشن پلانٹ موجود نہیں۔ اس سے قبل، ویڈانتا اور تائیوان کی فوکسکون کے درمیان 19.5 ارب ڈالر کا مشترکہ منصوبہ بھی 2023 میں ضوابطی رکاوٹوں اور اخراجات میں اضافے کے باعث منسوخ ہو چکا ہے۔

2023 میں امریکا اور بھارت کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے سیمی کنڈکٹر شعبوں کو آپس میں جوڑنا اور ایک مشترکہ سپلائی چین تشکیل دینا تھا۔

اگرچہ وزیر اعظم مودی نے سیمی کنڈکٹر کو اپنی صنعتی حکمت عملی کا مرکزی ستون قرار دیا ہے، تاہم پالیسی کو عملی ڈھانچے میں ڈھالنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ ادانی گروپ کی پسپائی نجی شعبے میں بڑھتی ہوئی احتیاط کی عکاس ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا، "ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اس امر کا واضح لائحہ عمل دے کہ مقامی طور پر تیار کردہ چپس کو کیسے فروخت کیا جائے گا۔ فی الحال مارکیٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔”

عالمی طلب میں بھارت کی کم شمولیت

اگرچہ حکومت کی جانب سے مراعات دی گئی ہیں اور عالمی سرمایہ کار دلچسپی دکھا رہے ہیں، لیکن بھارت سیمی کنڈکٹر کی عالمی طلب کے میدان میں پیچھے ہے۔ یو بی ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین اور امریکا مشترکہ طور پر 54 فیصد عالمی طلب کے ذمہ دار ہیں، جبکہ بھارت کا حصہ صرف 6.5 فیصد ہے۔

ملک کے دیگر بڑے سیمی کنڈکٹر منصوبے ابھی ترقی کے مراحل میں ہیں۔ ٹاٹا گروپ 11 ارب ڈالر مالیت کے فیبریکیشن اور ٹیسٹنگ پلانٹ پر کام کر رہا ہے جبکہ امریکی کمپنی مائیکرون 2.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک چپ پیکجنگ یونٹ بنا رہی ہے۔

تاہم، ادانی گروپ کا منصوبے سے پیچھے ہٹنا بھارت میں سیمی کنڈکٹر شعبے کی طلب، بنیادی ڈھانچے کی تیاری اور سرمایہ پر منافع جیسے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔

عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر کی دوڑ جاری ہے، لیکن بھارت کو نہ صرف سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ اس کی مارکیٹ پائیدار اور منافع بخش ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین