یمن کی مسلح افواج نے بدھ کے روز ایک اہم بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے "یو ایس ایس کارل ونسن” اور اس کے ساتھ موجود جنگی جہازوں پر کامیاب ڈرون حملہ کیا ہے، جبکہ اس کارروائی کے ایک روز بعد امریکی طیارہ بردار بیڑا "یو ایس ایس ہیری ٹرومین” شمالی بحیرہ احمر کی جانب پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔
بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بتایا کہ "ہم نے امریکی طیارہ بردار ونسن اور اس کے ہمراہ موجود جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا، اور یہ کارروائی کئی ڈرونز کی مدد سے انجام دی گئی۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ "یو ایس ایس ہیری ٹرومین پر حملے کے نتیجے میں ایک F/A-18 جنگی طیارہ مار گرایا گیا اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی فضائی کارروائی کو ناکام بنا دیا گیا۔”
اس دوران یمنی فورسز نے قابض اسرائیلی افواج کے خلاف بھی جوابی کارروائی کی، جس میں مقبوضہ یافا اور اشکلون میں اہم اور عسکری مقامات کو "یافا” نامی ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔
یحییٰ سریع نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یمنی مزاحمت فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور غزہ پر حملے ختم ہونے اور محاصرے کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
ادھر امریکی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ F/A-18 جنگی طیارہ ایک "کھینچنے کے عمل” کے دوران حادثاتی طور پر سمندر میں گر گیا، تاہم تجزیہ کار اس دعوے پر سوالات اٹھا رہے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ طیارہ یمنی حملے کا نشانہ بنا ہو سکتا ہے۔
یمن کی وزارت انصاف کے مطابق، حالیہ امریکی حملوں میں 1,300 سے زائد عام شہری، بشمول خواتین و بچے، جاں بحق یا زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکہ پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا گیا ہے، خاص طور پر صعدہ میں ایک حراستی مرکز پر "بینکر بسٹر” بم حملے کے حوالے سے، جسے عالمی سطح پر ممنوعہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔
یمن نے برطانیہ کو بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ اور "اسرائیل” کے ساتھ مل کر جارحیت جاری رکھتا ہے تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یمنی مزاحمت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور فلسطینی عوام کی حمایت سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی، چاہے دشمن کی طاقت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔

