اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیذلت آمیز ویڈیو سے اسرائیلی فوجی انحطاط اور سیاسی بحران بے نقاب

ذلت آمیز ویڈیو سے اسرائیلی فوجی انحطاط اور سیاسی بحران بے نقاب
ذ

قابض ریاست اسرائیل ایک گہرے داخلی بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں انٹیلی جنس اور فوجی قیادت وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کھل کر آواز اٹھا رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ مانیٹر میں شائع مضمون میں معروف صحافی اور مصنف رمزی بارود نے اس ویڈیو کا تجزیہ پیش کیا ہے، جو 22 اپریل کو چینل 12 پر نشر کی گئی۔ ویڈیو میں اسرائیلی فوجی گولیوں کی زد میں آ کر چیختے، دیواروں کے پیچھے چھپتے، سیڑھیاں گرتے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے دکھائے گئے — ایسی افراتفری جو عام طور پر اسرائیلی میڈیا میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔

ویڈیو کا نشر ہونا، باوجود فوجی سنسر شپ کے، کئی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشمکش کا اشارہ ہے۔

فوج اور انٹیلی جنس قیادت میں اختلافات

بارود کے مطابق اس بحران کی جڑ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں نیتن یاہو کی حکومت سے بڑھتا ہوا اختلاف ہے۔ 21 اپریل کو شین بیت کے سربراہ رونن بار نے سپریم کورٹ میں دو دستاویزات جمع کرائیں، جن میں ایک عوامی کی گئی، جس میں انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ سیاسی وفاداری سے انکار پر انہیں برطرف کیا گیا، خاص طور پر ان مقدمات کے سلسلے میں جو نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں کے خلاف ہیں۔

یہ غیرمعمولی اقدام اسرائیلی سیاسی ڈھانچے میں بغاوت کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں سابق شین بیت سربراہ نداف آرگامان نے بھی چند ہفتے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نے غیرقانونی اقدامات کیے تو وہ تمام راز افشا کر دیں گے۔

گیلانت کی تنقید اور میڈیا کو دی گئی معلومات

سابق سیکیورٹی وزیر یوآو گیلانت، جو خود بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ریڈار پر ہیں، نے نیتن یاہو کی غزہ پالیسی کو "اخلاقی بدنما داغ” قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگست 2023 میں اسرائیل نے جان بوجھ کر ایک جعلی سرنگ کی تصاویر جاری کیں تاکہ رفح کے قریب فلادلفی کاریڈور پر قبضہ جاری رکھا جا سکے اور کسی ممکنہ جنگ بندی کو سبوتاژ کیا جا سکے۔

بارود کے مطابق گیلانت کی یہ باتیں اور خان یونس کی ویڈیو کا اچانک اجرا ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد نیتن یاہو کی پالیسیوں کو سبکی پہنچانا ہے۔

جنگی نقصانات اور فوج میں انکار

اسرائیلی فوج کی اندرونی تقسیم کی ایک اور بڑی وجہ اصل جانی نقصانات کو چھپانا ہے۔ اگرچہ فوج نے ہلاکتوں کو کم ظاہر کیا ہے، لیکن بعض اطلاعات — جن میں سے کچھ فوج کے اندر سے لیک کی گئی ہیں — ظاہر کرتی ہیں کہ ان کا مقصد نیتن یاہو کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تقریباً نصف ریزرو فوجی اب دوبارہ میدان جنگ میں جانے سے انکار کر رہے ہیں۔

فوج کے نئے سربراہ ایال زامیر نے فروری میں اعتراف کیا تھا کہ صرف 2024 میں "5,942 اسرائیلی خاندان ماتم کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں”۔ وہ جو پہلے جنگ جاری رکھنے کے حامی تھے، اب محتاط رویہ اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اندرونی انتشار سے دوچار ریاست

غزہ میں جاری نسل کشی نے جہاں عالمی سطح پر اسرائیل کی شبیہ کو نقصان پہنچایا، وہیں اندرونی انتشار کو بھی عیاں کر دیا ہے۔ ایک ایسی ریاست جو کبھی متفق، جمہوری اور مربوط دکھائی دیتی تھی، اب بکھرے ہوئے سیاسی، عسکری اور انٹیلی جنس گروہوں کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی میں گرفتار ہے۔

گیلانت جیسے سابق حکومتی اراکین اب کھل کر نافرمانی کی بات کر رہے ہیں، تاکہ نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹایا جا سکے۔

یہ انکشافات، جو برسوں تک میڈیا کی ہم آہنگی اور سفارتی پردہ پوشی کے پیچھے چھپے رہے، اب دنیا کو اس غیر مستحکم اور متنازعہ ریاست کی حقیقت دکھا رہے ہیں — وہی ریاست جو غزہ میں خونریزی اور فلسطینیوں کے خلاف مسلسل قبضے کی ذمہ دار ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین