امریکہ اور یوکرین کے درمیان بدھ کے روز ایک اہم معدنیاتی معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنا ہے، تاہم معاہدے کی تفصیلات اور اس کے عملی نفاذ پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق، معاہدے کا محور یوکرین کے قدرتی وسائل ہیں جن کے مکمل طور پر استعمال میں آنے اور منافع بخش بننے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دولت اتنی زیادہ نہیں ہو سکتی جتنی بارہا صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرتے آئے ہیں۔
معاہدے کے نو صفحات پر مشتمل متن یوکرین کی حکومت نے جمعرات کو جاری کیا، جس میں کئی اہم نکات پر ابہام پایا جاتا ہے۔ ابتدائی مسودے میں امریکی حکومت نے یوکرین سے سابقہ فوجی امداد کے بدلے معدنیاتی دولت کے ذریعے ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم یہ شق حتمی معاہدے سے خارج کر دی گئی۔
سلامتی کی ضمانت کا کوئی ذکر نہیں
معاہدے میں یوکرین کو یورپی یونین کی ممکنہ رکنیت کا دروازہ کھلا چھوڑا گیا ہے، جس پر نہ امریکہ اور نہ روس نے کھل کر اعتراض کیا ہے۔ تاہم یوکرین کو روس کی ممکنہ دوبارہ جارحیت سے بچانے کے لیے جو سلامتی کی ضمانتیں دی جانی تھیں، ان کا ذکر معاہدے میں شامل نہیں۔
ٹرمپ اور یوکرین کے مستقبل کا نیا رشتہ
نیو یارک ٹائمز کے مطابق، اگرچہ معاہدے کے کئی پہلو غیر یقینی ہیں، لیکن اس کے ذریعے صدر ٹرمپ کو یوکرین کے مستقبل سے ایک عملی طور پر وابستہ کر دیا گیا ہے، جو دو ماہ قبل تک ایک ناقابلِ تصور بات تھی۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بدھ کے روز کہا:
"یہ معاہدہ روس کو واضح پیغام دیتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کو ایک آزاد، خودمختار اور خوشحال ریاست بنانے کے امن عمل سے طویل مدتی طور پر وابستہ ہے۔”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی یوکرین سے وابستگی کو مستحکم کر سکتا ہے۔ یوکرینی سیاسی تجزیہ کار وولودیمیر فیسینکو نے کہا:
"وہ ایک بزنس مین ہیں—ہمیشہ حساب کتاب رکھتے ہیں۔ سیاست میں بھی وہ اسی انداز میں فیصلے کرتے ہیں، اس لیے ان کی کاروباری سوچ شاید امریکہ کی دلچسپی کو یوکرین میں قائم رکھنے میں مدد دے۔”
ٹرمپ کا مطالبہ: امداد کے بدلے حکمتِ عملی پر مبنی منافع
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ یوکرین کو دی گئی 72 ارب ڈالر کی فوجی امداد کے بدلے امریکہ کو ٹھوس فوائد حاصل ہونے چاہئیں۔ اس نئے معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں یوکرین کے قیمتی معدنیاتی وسائل تک رسائی حاصل کر سکیں گی، جو چین کی اجارہ داری سے ہٹ کر عالمی رسد کی نئی زنجیر تشکیل دے سکتے ہیں۔
یوکرین لوہے، یورینیم، قدرتی گیس اور نایاب زمینی دھاتوں سمیت بے شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یوکرینی وزیر اقتصادیات سویریڈینکو نے کہا کہ یہ معاہدہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، اور تمام معدنی وسائل بدستور یوکرین کی قومی ملکیت رہیں گے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ معاہدہ امریکہ کو یوکرین کی تعمیر نو کے فنڈ میں تعاون اور ممکنہ طور پر اضافی عسکری امداد، جیسے فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم اس کی امریکی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

