اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کی ایرانی تیل و پیٹروکیمیکل خریداروں کو ثانوی پابندیوں کی دھمکی

ٹرمپ کی ایرانی تیل و پیٹروکیمیکل خریداروں کو ثانوی پابندیوں کی دھمکی
ٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے تیل یا پیٹروکیمیکل مصنوعات خریدنے والے ممالک یا افراد پر فوری طور پر ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے عناصر کو کسی بھی صورت میں امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر کیا، ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور، جو ہفتے کو متوقع تھا، ملتوی ہو چکا ہے۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کی نئی تاریخ امریکی حکومت کے رویے اور اقدامات کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔

رائٹرز کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل برآمدات کو مؤثر انداز میں روکنے کے لیے امریکہ کو چینی بینکوں جیسے اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کرنا ہوں گی، کیونکہ چین اب بھی ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی کی واپسی

یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ مسلط کی جانے والی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا حصہ ہے، جو فروری 2025 میں بحال کی گئی تھی۔ اس پالیسی کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے تمام امکانات سے محروم کرنا ہے، حالانکہ ایران بارہا ان عزائم کی تردید کر چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی ایل پی جی ٹائیکون سید اسداللہ امام جمعہ اور ان کے کاروباری نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کیں۔ امریکی بیان میں کہا گیا کہ یہ نیٹ ورک غیر ملکی منڈیوں میں کروڑوں ڈالر مالیت کا ایرانی تیل اور ایل پی جی برآمد کرنے کا ذمہ دار ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا چوتھا دور 3 مئی کو روم میں ہونا تھا، لیکن اب وہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت میں 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے نئی ڈیل نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی، تاہم رواں ماہ کے آغاز میں انہوں نے زور دیا کہ وہ سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں اور مبینہ طور پر اسرائیل کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین