امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی مشیر مائیک والٹز کو برطرف کر دیا ہے، جب کہ ان کے نائب ایلکس وونگ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے پیچھے ایک لیک ہونے والی سگنل چیٹ، اندرونی اختلافات اور صدر ٹرمپ سے نظریاتی تضادات کو بنیادی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، عبوری طور پر والٹز کی جگہ قومی سلامتی مشیر کے فرائض انجام دیں گے۔ یہ پہلا موقع ہو گا جب 1970 کی دہائی میں ہنری کسنجر کے بعد کوئی شخصیت بیک وقت سیکریٹری آف اسٹیٹ اور قومی سلامتی مشیر کا منصب سنبھالے گی۔
اگرچہ والٹز کو برطرف کیا گیا ہے، لیکن ٹرمپ نے انہیں اقوام متحدہ میں امریکہ کا اگلا سفیر نامزد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں ٹرمپ نے والٹز کی کانگریس، میدان جنگ اور قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات کو سراہا اور کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے نئے کردار میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائیں گے۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا، ’’مارکو روبیو بطور سیکریٹری آف اسٹیٹ اپنی موجودہ قیادت کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی مشیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں گے۔ ہم مل کر امریکہ اور دنیا کو دوبارہ محفوظ بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔‘‘
والٹز، جو فلوریڈا سے سابق رکنِ کانگریس اور سجے ہوئے گرین بریٹ تھے، کو مارچ میں ایک سگنل چیٹ لیک ہونے کے بعد سے تنقید کا سامنا تھا۔ اس چیٹ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور والٹز کے درمیان یمنی مسلح افواج (YAF) پر حملوں کے حوالے سے گفتگو ہو رہی تھی، جس میں اتفاقاً ایک صحافی کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔
قیادت کا مایوس کن انداز
‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے مطابق، چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور دیگر اعلیٰ حکام والٹز کی قیادت اور عملے کے انتخاب سے نالاں تھے، کیونکہ ان کے مقرر کردہ مشیر ٹرمپ کے ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ (MAGA) بیس سے ہم آہنگ نہیں تھے۔
دوسری جانب، نائب مشیر ایلکس وونگ، جو شمالی کوریا سے متعلق ٹرمپ کی سفارتکاری میں اہم کردار ادا کر چکے تھے، کو ٹرمپ کے حامی حلقوں کی جانب سے چین نواز قرار دیا جا رہا تھا—اگرچہ یہ الزامات بغیر کسی ثبوت کے تھے۔ مارچ میں لیک ہونے والی چیٹ میں وونگ کو اُس ٹیم کے انچارج کے طور پر پہچانا گیا تھا جس کا ذکر والٹز نے سگنل گروپ میں کیا تھا۔
فاکس نیوز پر لورا انگرام سے گفتگو کرتے ہوئے والٹز نے گروپ بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’’شرمناک غلطی‘‘ قرار دیا۔
’پہلا ہے، آخری نہیں‘
جب والٹز کی ممکنہ برطرفی سے متعلق سوال کیا گیا تو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا، ’’ہم گمنام ذرائع کی رپورٹس پر ردعمل نہیں دیں گے۔‘‘
برطرفی کے بعد ایوانِ نمائندگان کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے فاکس نیوز پر کہا، ’’قومی سلامتی مشیر والٹز کو ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ پہلے ہیں، آخری نہیں ہوں گے۔‘‘
اگرچہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مارچ کی چیٹ میں کوئی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئیں، لیکن اس واقعے نے والٹز کے اثر و رسوخ کو شدید نقصان پہنچایا۔ وہ پہلے ہی ایران کے جوہری معاہدے اور روس-یوکرین پالیسی جیسے اہم معاملات سے باہر رکھے جا چکے تھے اور حال ہی میں انہیں مشی گن ریلی میں شرکت سے بھی روک دیا گیا تھا۔
کبھی قدامت پسند قومی سلامتی کے بیانیے کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے سراہا جانے والا والٹز، اب ٹرمپ کے ایجنڈے کی نمائندگی میں ناکام تصور کیا جانے لگا۔ وہ ایران اور یوکرین جیسے معاملات پر ٹرمپ سے مختلف، زیادہ جارحانہ مؤقف رکھتے تھے، جو ٹرمپ کی تنہائی پسند پالیسی سے متصادم تھا۔ اسی نظریاتی تفاوت اور دیگر مشیروں سے تناؤ کے باعث ان کی پوزیشن کمزور ہوتی گئی۔
قومی سلامتی کے مشیروں کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا ریکارڈ غیر مستحکم رہا ہے؛ پہلی مدت میں وہ چار مشیر بدل چکے تھے، اور والٹز کی برطرفی کے بعد یہ تعداد چھ تک پہنچ گئی ہے۔ اپریل میں ایک اندرونی جھٹکے کے دوران، جب کارکن لورا لوومر نے ٹرمپ کو قائل کیا کہ والٹز کے کچھ تقرر کردہ افراد ایجنڈے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کئی افراد کو برطرف کیا گیا، جس سے والٹز کی گرتی ہوئی حیثیت مزید واضح ہو گئی تھی۔

