اسلام آباد: پاکستان کو غیر قانونی تجارت کے عالمی انڈیکس 2025 میں 158 ممالک میں سے 101ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جو ملک میں تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
غیر قانونی تجارت کے باعث پاکستان کو صرف پانچ اہم شعبوں میں سالانہ 751 ارب روپے کے محاصل کا نقصان ہو رہا ہے۔ ان میں سب سے بڑا حصہ تمباکو کے شعبے کا ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
یہ انکشافات جمعرات کے روز جاری ہونے والی رپورٹ "پاکستان کی غیر قانونی تجارت کے خلاف جنگ: چیلنجز اور بہتری کی راہیں” میں کیے گئے، جو پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) اور ٹرانزیشنل الائنس ٹو کامبیٹ الِسِٹ ٹریڈ (TRACIT) نے مشترکہ طور پر پیش کی۔
مختلف شعبوں میں غیر قانونی تجارت سے سالانہ نقصان:
- تمباکو: 300 ارب روپے
- ادویات: 60 تا 65 ارب روپے
- ٹائروں اور لبریکنٹس: 106 ارب روپے
- پیٹرول و ڈیزل: 270 ارب روپے
- چائے: 10 ارب روپے
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو 158 ممالک میں 44.5 کا مجموعی اسکور ملا، جو کہ عالمی اوسط 49.9 سے کم ہے۔ اس کے مقابلے میں چین 40ویں، بھارت 52ویں، سری لنکا 73ویں اور بنگلہ دیش 95ویں نمبر پر رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے اور دیگر ابھرتی معیشتوں سے پیچھے ہے۔
انڈیکس کے چھ پیمانوں میں پاکستان کی کارکردگی:
- تجارت، کسٹمز اور بارڈر: 75.4 (بہتر کارکردگی)
- سپلائی چین انٹرمیڈیئرز: 25.9 (کمزور)
- شعبہ جاتی غیر قانونی تجارت: 29.3 (کمزور)
- ٹیکسیشن و معاشی ماحول: 47.3
- ریگولیٹری فریم ورک و نفاذ: 46.4
- مجرمانہ معاونت: 42.7
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ سرحدی کنٹرول میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن اندرونی ریگولیٹری اور معاشی نظام اب بھی غیر قانونی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس لیے صرف سرحدی اقدامات کافی نہیں بلکہ جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔
TRACIT کے ڈائریکٹر جنرل جیفری پی ہارڈی نے کہا کہ پاکستان کی کمزور درجہ بندی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ "تمام محاذوں پر پالیسیوں کا مؤثر نفاذ ضروری ہے، اور سب سے اہم قدم یہ ہوگا کہ غیر قانونی تجارت کے خلاف ایک نیشنل کوآرڈینیٹر تعینات کیا جائے۔”
رپورٹ کی تقریب کے مہمانِ خصوصی، رانا احسان افضل خان (وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت) نے اس بات کی تائید کی کہ حکومت پالیسی اور نفاذ کے درمیان تعلق کو سمجھتی ہے۔ انہوں نے مشروبات، خصوصاً دودھ اور جوس پر زیادہ ٹیکس کے منفی اثرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف بی آر نے مؤثر نفاذ کے لیے طورخم بارڈر پر اسکینرز نصب کیے ہیں، انسانی مداخلت کم کی گئی ہے، عملے کی تربیت اور تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، اور طریقہ کار کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔

