تہران — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان جرائم کو روکنے کے لیے عالمی برادری سے فوری اقدام کی اپیل کی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے پیر کے روز ٹیلیفونک گفتگو میں عراقچی نے کہا کہ غزہ کی تباہ حال اور محصور پٹی میں اس وقت "صدی کی سب سے بڑی نسل کشی” جاری ہے، جسے روکنے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر کارروائی کی جانی چاہیے۔
عراقچی نے بتایا کہ گزشتہ اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں کم از کم 52,243 فلسطینیوں کو شہید اور 117,639 افراد کو زخمی کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر جنگ یوآو گالانٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی غزہ میں نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں نے اس علاقے کو تقریباً غیر قابل سکونت بنا دیا ہے۔
عراقچی نے گفتگو کے دوران سعودی ہم منصب کو ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت سے متعلق بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ یہ مذاکرات عمان اور اٹلی میں 12، 19 اور 26 اپریل کو منعقد ہوئے، جن کا مقصد ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاہدے کی بحالی تھا۔
دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ نے ایران کے جنوبی بندرگاہی شہر بندر عباس میں ہفتے کے روز ہونے والے ہولناک دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، جس میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور 1,000 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے ایرانی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

