اتوار, فروری 15, 2026
ہومنقطہ نظرمسلم شادی ایپ ’سلامز‘ کی صیہونی فحش نیٹ ورک کو فروخت —...

مسلم شادی ایپ ’سلامز‘ کی صیہونی فحش نیٹ ورک کو فروخت — صارفین کے لیے کتنا خطرناک؟
م

تحریر: ڈیوڈ ملر

مسلم شادی کے لیے مخصوص ایپ ’سلامز‘ پر حالیہ دنوں شدید تنقید کی جا رہی ہے، جب یہ بات سامنے آئی کہ اسے ’میچ گروپ‘ (Match Group) نے خرید لیا ہے — ایک ایسی کمپنی جو اتفاقی تعلقات کو فروغ دینے والی ایپس کی مالک ہے، اور جس کے نئے سی ای او اسپنسر راسکوف کو کھلے عام صیہونی اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کا حامی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ خریداری 2023 کے آخری مہینوں میں مکمل ہوئی، مگر اسے عوامی سطح پر تب ہی ظاہر کیا گیا جب 4 فروری 2025 کو میچ گروپ نے اپنے مالیاتی نتائج جاری کیے اور راسکوف کو کمپنی کا نیا سی ای او مقرر کیا۔

اس پیش رفت پر مدمقابل ایپ ’مز‘ (Muzz) کے بانی شہزاد یونس نے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ وہ اس فیصلے سے حیران نہیں، بلکہ خوش ہیں کہ اُنہوں نے میچ گروپ کی خریداری کی پیشکش اور دباؤ کو مسترد کیا۔ اُن کے مطابق، "غزہ کی صورتحال کے پیش نظر خریداری کو خفیہ رکھنا دانستہ عمل تھا… صاف ظاہر ہے کہ میچ گروپ کچھ چھپانا چاہتا تھا۔”

سلامز اگرچہ ایک مسلم شادی ایپ ہے، مگر میچ گروپ کی دیگر ایپس جیسے ٹنڈر، اوکے کیوپڈ اور پلینٹی آف فِش کو غیر سنجیدہ تعلقات کے فروغ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

غزہ میں نسل کشی کی حمایت

نئے سی ای او اسپنسر راسکوف نے 2023 میں غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی کھل کر حمایت کی۔ انہوں نے لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوجیوں کے لیے امدادی مہم کی حمایت کی اور فنڈنگ کے لیے لنک بھی شیئر کیا۔ اس لنک سے ایسی مہمات کو تقویت ملی جنہیں بہت سے ماہرین نسل کشی کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔

مزید برآں، 2024 میں امریکی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کو ہدف بنانے کے لیے نفسیاتی مہم کے طور پر ٹنڈر پر عربی زبان میں اشتہارات چلائے، جن میں امریکی طاقت کی دھمکیاں شامل تھیں۔

راسوکوف ماضی میں پیلنٹیر نامی نگرانی کرنے والی کمپنی کے بورڈ میں بھی شامل رہے ہیں، جو اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں سے منسلک ہے۔

صیہونی سرمایہ کاروں کا کردار

راسوکوف کی تقرری اور میچ گروپ کی پالیسیوں کے پیچھے اہم کردار ایلیٹ مینجمنٹ (Elliott Management) کا ہے، جس نے جنوری 2024 میں میچ گروپ میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ایلیٹ مینجمنٹ کے سربراہ پال سنگر کو سخت گیر صیہونی، ریپبلکن پارٹی کا بڑا مالی معاون اور متعدد اسلام مخالف تھنک ٹینکس کا سرپرست قرار دیا جاتا ہے۔

پال سنگر نے اسرائیلی دفاعی افواج اور دائیں بازو کی جماعتوں کو بڑے پیمانے پر مالی امداد فراہم کی ہے، اور وہ ان اداروں کے بورڈز پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں امریکی و اسرائیلی پالیسیوں کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔

یہ تمام عوامل یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا سلامز ایپ پر مسلمان صارفین کا ڈیٹا اب صیہونی انٹیلیجنس اداروں کی دسترس میں ہے؟

فحاشی کا عالمی نیٹ ورک اور صیہونیت

مصنف کے مطابق، صیہونی نظریات صرف فلسطین کے لیے خطرہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر اخلاقی زوال، فحاشی کے کاروبار اور ثقافتی استحصال میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

’اونلی فینز‘ کے مالک لیونیڈ رادونسکی نے، جو یوکرین کے صیہونی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، 7 اکتوبر کے بعد AIPAC کو 11 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی۔

اسی طرح، ’پورن ہب‘ کو خریدنے والی کمپنی Ethical Capital Partners کے مرکزی فرد سولومن فرائیڈمین ہیں، جو نہ صرف ربی ہیں بلکہ اسرائیلی نوآبادیاتی سرگرمیوں میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔

یہ تمام ادارے اور افراد بظاہر "اخلاقی” فریم ورک کے تحت فحاشی کو جائز بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کا مقصد صرف منافع اور ثقافتی زوال کو مزید تقویت دینا ہے۔

نتیجہ

صیہونی خطرہ صرف فلسطین تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں یہ نیٹ ورک کاروبار کرتا ہے، وہاں اخلاقی، ثقافتی اور سیکیورٹی خطرات بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔ سلامز ایپ کا معاملہ ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ہماری شناخت، اقدار اور ثقافتی خودمختاری کس قدر غیر محفوظ ہو چکی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین